کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس ، عوام کی ذلت و خواری

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس ، عوام کی ذلت و خواری

مکرمی! حکومت پنجاب نے ’’نادرا‘‘ کے ذریعے اسلحہ لائسنس کمپیوٹرائزڈ کرانے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ’’نادرا‘‘ سنٹرز میں عوام کی جو درگت بنتی ہے اور جس طرح ذلت و خواری سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ لوگ چودہ صد روپے اومنی شاپ میں جمع کرا کر صبح سویرے لائنوں میں لگ جاتے ہیں لیکن ’’نادرا‘‘ کا عملہ کسی سنٹر پر پچاس اور کسی پر روزانہ سو ٹوکن جاری کرتا ہے، جو زور آور لوگ دھکم پیل سے حاصل کر لیتے ہیں۔ ضعیف ، عمر رسیدہ اور بوڑھے بزرگ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں سنٹروں میں نہ پینے کے پانی کا کوئی انتظام ہے نہ سائے کا پھر ’’نادرا‘‘ کا عملہ تمام دن سسٹم کی خرابی کا بہانہ کر کے کام نہیں کرتا۔ لاہور ضلع کچہری کے سنٹر کی صورت حال سب سے زیادہ خراب ہے کیونکہ سب سے زیادہ رش یہیں ہوتا ہے اس سنٹر کا سسٹم اکثر و بیشتر ڈائون رہتا ہے اور 27 مئی سے مسلسل ڈائون چلا آ رہا ہے۔ لوگ روزانہ دھکے کھا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ 28 تاریخ جمعرات کے روز عوام کو سسٹم خراب ہونے کا بہانہ کر کے عملے نے دفتر میں داخل ہی نہیں ہونے دیا اور جس لوگوں کے پاس بدھ کے روز ٹوکن تھے، انہیں سوموار کو آنے کا کہہ کر ٹرخا دیا گیا۔ بعد میں تمام عملہ دفتر کو تالے لگا کر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے کیلئے غائب ہو گیا۔کیا اس کاکچھ علاج ہوسکتا ہے۔ (میاں محمد ابراہیم طاہر 0300-4154083 )