برطانیہ میں اللہ کا ولی

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
برطانیہ میں اللہ کا ولی

یوں تو برطانیہ یورپ میں پیروں فقیروں کی فوج ظفر موج موجود ہے کون سچا کون جھوٹا اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے لیکن گزشتہ روز 31/30 مئی کی شام برطانیہ کے شہر Stoke میں پیر  سلطان ولی کا عْرس دیکھا۔ چچا نذیر اپنے اہل و عیال کے ہمراہ ہر سال اس دن عرس سے مستفید ہوتے ہیں انہیں کی دعوت پر عرس دیکھا میرا یہ دن ایسے گزرا جیسے جنت کا کوئی ٹکڑا ہو پاکستان کے نامور سکالر دانشور اینکر اظہر لودھی اپنے جلوے کے ساتھ خوبصورت آواز لب و لہجہ گرجتی برستی شعلہ بیان آواز مزار شریف میں عوام کو محظوظ کر رہی تھی۔ اظہر لودھی کے خوبصورت دل موہ لینے والے الفاظ عوام کے دلوں میں اتر رہے تھے۔ سٹیج پر پیر سلطان ولی  اپنے بڑے بھائی قبلہ حاجی رزاق کے ہمراہ اسٹیج پر تشریف فرما تھے مسکراتے ہوئے اپنے پرستاروں کو خندہ پیشانی سے ملتے دعائیں کرتے دم کرتے اپنے پرستاروں کو حوصلہ دیتے اور پرستار اپنی بیماری لے کر آنے اور بیماری کے بغیر پلٹ جانے پر انوکھا دلفریب منظر برطانیہ میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ایک پرستار قاسم (چچا نذیر کے بیٹے) کا ایکسیڈنٹ پاکستان ہوا ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ پیر صاحب کے روبرو پیش ہونے کے بعد برطانیہ کے ڈاکٹرز یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ آپ کی ٹانگ ٹوٹی ہے ایسے لاتعداد غیریقینی مناظر دیکھنے کو ملے۔ پیر سلطان ولی  ایمان آج سے دوسرے دن رات 3 بجے تک اپنے چاہنے والوں کے درمیان موجود رہے خدمت گار ان کے چاہنے والوں کو کھانا، مشروبات، فروٹ، مٹھائیاں تقسیم کرتے رہے لیکن اللہ کا ولی نہ کھایا نہ پیا نہ انگڑائی، نہ اکسائے نہ اکتائے حتیٰ کہ 30 مئی سے 31 مئی کی صبح ہو گئی بدستور مسکراتے رہے دربار شریف میں شفا آب اور کڈنی کی شفاء کا پانی بھی موجود ہے جسے لوگ پیتے ہیں اور شفاء پاتے ہیں۔ راقم پوری رات محفل پیر میں محظوظ ہوتا رہا۔  بتایا جاتا ہے کہ عرس مبارک سے قبل برطانوی حکومت کے نمائندگان پورے دربار کا دورہ کرتے ہیں اور ضروری انتظام کرتے ہیں کوئین آف برطانیہ کا خصوصی نمائندہ افتتاحی تقریب میں شرکت کرتا ہے۔ عرس میں ہر مذاہب کے افراد بھی دیکھنے کو ملے جو ایک دلچسپ منظر تھا۔ پیر سلطان ولی کہاں سے آئے ایک سوال ہے لیکن برطانیہ کی سرزمین پر 61 سال سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔  (وقار ملک۔ برسلز)