فوجی عدالتیں اور دہشت گردوں کی دیگر اقسام

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
فوجی عدالتیں اور دہشت گردوں کی دیگر اقسام

مکرمی! فوجی عدالتیں تو سنگین دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کے ٹرائل اور انہیں فوری کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے لائی اور بنائی جا رہی ہیں۔ مگر اس کے علاوہ ملک کے اندر کچھ دیگر قسم کے اور بھی دہشت گرد ہیں جو سنگین تر جرائم اور دہشت گردی میں ایک عرصہ سے احتساب و سزائوں سے بے خوف ہو کر سرعام دندنا رہے اور بلاوے بالارہے ہیں کہ ہے کوئی مائی کا لال جو ان کا بال بیکا کرسکے۔ اگر کوئی ہے تو سامنے آئے۔ ان میں ایک قسم تو ان مالی دہشت گردوں کی ہے۔ جنہوں نے اپنی کرسیوں اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ملک کو مالی لحاظ سے نچوڑ کر اپنے غیر ملکی اکائونٹ تو بھر لئے مگر ملک کو مفلوج کر کے عالمی سطح کا بھیک منگا بنا کر رکھ دیا۔ اور دوسری قسم بعض سیاسی پارٹیوں کے وہ بدمعاشی و نگز‘‘ ہیں۔ جن کی دہشت گردی سے مخالفین کا قلع قمع کرنے اور بھتہ و صولی کا کام لیا جاتا ہے۔ ان ونگز کی بدمعاشیاں اپنے بااثر، بااختیار پشت پناہوں اور سہولت کاروں کے بل بوتے پر امن و امان کے راستے کا ایک بہت بڑا پتھر ہیں۔ ان ہر دو قسم کی سنگین تر دہشت گردی کا خاتمہ بھی انہی عدالتوں کے دائرہ کار میں دیا جانا ازحد ضروری اور قرین انصاف ہوگا۔ تاکہ ملک پاکستان کو ان گندگیوں سے پاک کر کے صحیح معنوں میں پاکستان بنایا جاسکے۔ جو کہ اس اعلیٰ نسلی پشت پناہوں، سہولت کاروں اور ان کے پالتو دہشت گردوں کے خاتمہ کے بغیر ممکن ہے ہی نہیں مالی بدعنوانوں کو اگر چین میں سزائے موت دی جاسکتی ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قسم کی قانون سازی اور اس پر عملدر آمد میں کیا امر مانع ہے۔ (محسن امین تارڑ ایڈووکیٹ)