لاہور کے ثقافتی ورثہ ’’بیٹھک کاتباں ‘‘ کو برباد ہونے سے بچایا جائے

مکرمی! ’’بیٹھک کاتباں‘‘ لاہور کے ثقافتی ورثہ کی حیثیت سے بڑی تاریخی اہمیت کی حامل ہے جو جائیداد D-451 اندرون لوہاری گیٹ میں واقع ہے۔ جو روز بروز بربادی کا شکار ہو رہی ہے اور جلد ہی صفحہ ہستی سے ختم ہونے کی منتظر ہے۔
یہ عمارت قبل آزادی سے عظیم خطاط استادوں کا مرکز رہی ہے اور ان کے فن خطاطی چشم دید گواہ ہے۔
اس بیٹھک کاتباں میں حضرت علامہ اقبالؒ مفکر پاکستان اور حضرت میاں شیر محمد شرقپوری کے علاوہ اپنے دور کی عظیم اور نامور ہستیاں یہاں فن خطاطی سے مستفید ہوتی رہی ہیں فن خطاطی کے عظیم استادوں میں تاج الدین پر دین رقم‘ صوفی خورشید عالم گوہر رقم کے علاوہ معروف شاگرد یہاں فن خطاطی کی تربیت حاصل کرتے رہے اور بڑے نام کمائے۔
استاد صوفی خورشید عالم گوہر رقم کی وفات کے بعد بیٹھک کاتباں کی رونق برباد ہو گئی مزید براں جدید تکنیک کی آمد سے خطاطی کے فن کو ذرا دیر کے لئے زوال پذیری کا سامنا کرنا پڑا۔ ’’بیٹھک کاتباں‘‘ فن خطاطی کے حوالے سے اسلامی فنون اور لاہور کی پہچان ہے اسی بازار میں قبل آزادی پاکتان ادبی‘ دینی اور علمی کتب کی دکانوں کی ادبی مارکیٹ رہی ہے۔
ارباب اختیار‘ اعلیٰ‘ احکام خصوصی لاہور سے محبت رکھنے والے لاہور سے استدعا ہے کہ ایسی عمارتوں جو خصوصاً ثقافتی ورثہ کے حوالہ سے تحفظ مہیا فرمایا جائے۔( محمد اکبر شاہد لاہوری A/1969 سید مٹھا بازار اندرون لوہاری گیٹ لاہور)