14 اگست کب آئے گی ؟

چودہ اگست 14 اگست نہیں‘ پاکستان کا یوم آزادی ہے۔ 1947ء سے ہم جس طرح اپنا یوم آزادی مناتے آئے ہیں‘ وہ جوش و خروش نہ حکومت کی سطح پر نظر آ رہا ہے اور نہ عوامی سطح پر۔ میں شہر لاہور کی بات کرتا ہوں۔ خداوند کریم میاں شجاع الرحمن کی مغفرت فرمائے (آمین) ! وہ یکے بعد دیگرے تین مرتبہ لاہور کے میئر منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے دور میں وہ کام کئے جو اب دیکھنے میں نہیں آتے۔ انہوں نے مشاورت کیلئے ایک شوریٰ بنائی جس کو سٹیزن کمیٹی کا نام دیا گیا۔ بندہ بھی اس کمیٹی کا ممبر تھا۔ جولائی کے شروع سے ہی وہ سٹیزن کمیٹی کا اجلاس بلانا شروع کرتے تھے۔ شوریٰ کے صلاح مشورہ سے وہ یوم آزادی منانے کا خوبصورت پروگرام تشکیل دیتے تھے۔ سٹیزن کمیٹی کی چند نشستوں میں طے ہوتا تھا کہ 11 اگست کو کیا پروگرام ہو گا‘ 12 اگست کو کیا ہو گا پھر 13‘ 14 اگست کو بھرپور طریقہ پر یوم آزادی کس طرح منایا جائے گا۔ 11 اگست کو یوم آزادی کے حوالے سے تقریری پروگرام ہوتا تھا۔ خداوند کریم مغفرت فرمائے پروفیسر مرزا منور صاحب کی اور پروفیسر مسکین حجازی صاحب کی‘ یہ حضرات تقریری محافل سجاتے تھے۔ پاکستان‘ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ موضوع ہوتے تھے۔ 12 اگست کو عتیق سٹیڈیم میں کھیلوں کے کبڈی وغیرہ کے مقابلے ہوتے تھے۔ جناب محمد علی صاحب ان پروگراموں کی نگرانی کرتے۔ 13 اگست کو بعد نماز عشاء جناح ہال میں محفل قرأت ہوتی تھی۔ بندہ پر اس پروگرام کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ پھر تینوں دن اول دوم سوم آنے والوں کو انعامات دے کر حوصلہ افزائی اور یوم آزادی کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ محفل قرأت میں جناح ہال میں کھڑا ہونے کی بھی جگہ نہ ہوتی تھی۔ لاہور کی تمام مارکیٹوں کے صدر اور سیکرٹری حضرات کو مارکیٹیں سجانے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ بالآخر 13 اور 14 اگست کو لاہور دلہن کی طرح سجا ہوتا تھا۔ ہر طرف رونق‘ سجاوٹ‘ گہما گہمی اور عوام میں زندہ دلی نظر آتی تھی۔ اللہ کریم مغفرت فرمائے جناب چوہدری عید محمد صاحب کو‘ وہ سٹیزن کمیٹی کے کچھ ارکان کو لیکر 13 اور 14 اگست کی شب مارکیٹوں کے دورے کرتے تھے۔ سجاوٹ کا معائنہ کرتے تھے۔ اس طرح اول دوم سوم آنے والوں کو میئر کی طرف سے انعامات دیے جاتے تھے۔ 1947ء سے اب تک یوم آزادی کس طرح منایا گیا‘ میں سب سالوں کی تصویر پیش کر سکتا ہوں مگر 2009ء کا جولائی ختم ہو گیا اور 14 اگست یا یوم آزادی کی کوئی بات ان کانوں نے نہیں سُنی جو آزادی کے نغمے سنتے رہے ہیں۔ بار بار یہی سوچ رہا ہوں کہ 14 اگست کب آئے گی؟ پاکستان پائندہ باد! (شیخ عبدالخالق ملتان روڈ لاہور)