یونین کونسل لاگر کے مسائل

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! شیخوپورہ‘ ننکانہ کے مشترکہ حلقہ این اے 136‘ پی پی 168 شیخوپورہ میں شامل یونین کونسل لاگر سے جو بھی ایم پی اے‘ ایم این اے ووٹ لے کر گیا بدقسمتی سے وہ الیکشن کے دنوں میں ہی دوبارہ آیا۔ ایم این اے پہلے پانچ سال (ق) لیگ اور دوبارہ پانچ سال (ن) لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر 10 سال میں مجموعی طور پر پانچ بار بھی لاگر نہیں آیا جبکہ (ن) لیگ کے ٹکٹ پر جیتنے والے ایم پی اے نے ایک‘ دو خاندانوں کو فائدہ پہنچانے اور مخصوص گھروں کی گلیوں میں سولنگ لگوانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ یونین کونسل لاگر کا گرلز سکول آج بھی بجلی سے محروم ہے‘ بنیادی مرکز صحت میں سہولتیں میسر نہیں‘ بوائز ہائی سکول مسائل کا شکار ہے۔ لڑکیوں اور لڑکوں کیلئے کوئی ٹیکنیکل ادارہ نہیں۔ سوئی گیس کی فراہمی اور زرعی پانی کیلئے موہگہ جات کی ”ری ماڈلنگ“ سمیت کئی مسائل انتہائی اہم ہیں لیکن افسوس کہ 8 سال تک ناظم رہ کر لاکھوں روپے کے فنڈز لوٹنے والوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ آج یونین کونسل لاگر کی عمارت کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ پنکھے‘ فرنیچر‘ کھڑکیاں‘ دروازے غائب ہیں۔ جس پر امیدواروں اور دعویداروں سے غالبؒ کے الفاظ میں ہی بات کی جا سکتی ہے کہ ....ع
شرم تم کو مگر نہیں آتی
(شاہ نواز تارڑ .... لاگر‘ شیخوپورہ)