انسان سونے کی کان

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی ! حضرت بایزید بسطامیؒ ولی اللہ ہوئے ہیں۔ ایک یہودی جو آپ کا پڑوسی تھا وہ کہیں سفر میں چلا گیا اور افلاس کی وجہ سے اس کی بیوی چراغ تک روشن نہیں کر سکتی تھی۔ تاریکی کی وجہ سے اس کا بچہ تمام رات روتا رہتا تھا۔ چنانچہ آپ ہر رات اس کے یہاں چراغ رکھ آتے اور جس وقت وہ یہودی سفر سے واپس آیا تو اس کی بیوی نے تمام واقعہ سنایا جس کو سُن کر اس نے کہا کہ یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ اتنا عظیم بزرگ ہمارا پڑوسی ہو اور ہم گمراہی میں زندگی گزاریں۔ چنانچہ دونوں میاں بیوی آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ پس دوسرے انسان سے محبت خود اپنے آپ سے محبت ہے۔ حدیث پاک ہے ”انسان سونے چاندی کی کان کی طرح ہیں“ انسان چودہ طبق کا مجموعہ ہے۔ چودہ طبق میں ہر چیز پائی جاتی ہے۔ انسان سونے کی کان ہو کر اس دنیا جو ”مٹی“ سے بھی کم تر ہے اسی کا خریدار ہو کر رہ گیا ہے۔ عقبیٰ (عاقبت) جو سونا کی طرح ہے۔ اسے بھول رہا ہے جو اس کے لئے ہمیشہ کی جگہ ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی تاجر رات کے اندھیرے میں سونے کی بجائے ٹھیکریاں جمع کر رہا ہو۔ دعا ہے کہ اے خدا ہمیں دوسروں کے ساتھ محبت کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں اپنا بنا اور دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (صوفی محمد بشیر محلہ مسلم کالونی پسرور)