میری ملالہ بیٹی کہاں ہے

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! جس دن سے ملالہ بیٹی کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے غم اور اذیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ملالہ بیٹی کا واقعہ ہر نیوز چینل اور اخباروں کی مین سٹوری بنا رہا اور ایسے لگ رہا تھا کہ پاکستان میں کوئی اور اہم مسئلہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ملالہ بیٹی کو صحت عطاءفرمائے۔(آمین) وطن میں کئی ایسی بیٹیاں ہیں جن کے ساتھ کئی طرح کے ظلم کئے گئے ہیں میرا غم اور اذیت بڑھنے کی وجہ بڑی اہم ہے۔ملالہ بیٹی کی طرح میری بھی 13سالہ حافظہ بیٹی تھی اور ہماری بڑی خواہش تھی کہ ہم اپنی بیٹی کو اپنے دین اسلام کی تعلیم دلوائیں اور میری بیٹی کو بھی بڑا شوق تھا کہ وہ دینی تعلیم حاصل کرے۔پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد ہم نے اپنی بیٹی کو دینی مدرسہ میں داخل کروایا اور میری بیٹی نے پہلے مرحلے میں قرآن پاک حفظ کرنا شروع کردیا اور چند پارے ہی حفظ کرپائی تھی۔ہم پر قیامت سے پہلے ہی قیامت ٹوٹ پڑی۔مورخہ27-3-2010 بروز ہفتہ کو مدرسہ جاتے ہوئے دن دیہاڑے میری بیٹی کو اغواءکرلیا گیا جو آج تک بازیاب نہیں ہوسکی۔ میں نے اپنی حافظہ بیٹی کا اغواءکا مقدمہ تھانہ سٹی ڈسکہ میں درج کروایا۔مقدمہ نمبر 284/10 بجرم365-B درج کروانے کے بعد ابتدائی تفتیش غلط ہونے کی وجہ سے میری حافظہ بیٹی بازیاب نہ ہوسکی ہے۔فون ڈیٹا کے ٹھوس ثبوت ہونے کے باوجود بھی ملزمان کی ضمانتیں کروادی گئیں۔ ملزموں کی چند دو نمبر اور سیاسی لوگ پشت پناہی کر رہے ہیں۔مجھ پر حملے ہوئے،ہر حربہ اختیار کیا گیا تاکہ میں مقدمہ کی پیروی چھوڑ دوں۔ جس کی وجہ سے میں اپنی حافظہ بیٹی کے اغواءکے مقدمہ کی آزادانہ پیروی نہیں کرپارہا اور اب بھی کسی نہ کسی طریقے سے مجھے ہراساں کیاجاتا ہے۔وکیل کی فیس دینے کیلئے ہمارے پاس رقم تک نہیں ہے۔چوری بھی ہماری اور سینہ زوری بھی ہمارے ساتھ۔ میری حافظہ بیٹی کے اغواءہونے کے بعد میری والدہ پوتی کے غم میں دل کا دوباراٹیک ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل رہی ہیں اور اکثر بیمار رہتی ہیں۔میرے والد پوتی کے دکھ میں روتے رہتے ہیں اوررو رو کر ان کی آنکھوں میں موتیا آگیا تھا ایک آنکھ کا آپریشن تو میرے بڑے بھائی نے کروالیا ہے۔میری بیو ی اپنی حافظہ بیٹی کی جدائی کے غم میں دماغی مریض بن چکی ہے کبھی تھوڑا بہت ٹھیک ہوجاتی ہے۔ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اب ان کو زندہ رہنے کیلئے تاحیات دماغی بیماری کی گولیاں کھانا ہونگی۔اب میں اپنی بیوی کو دن میں تین ٹیگرال گولیاں کھانے کیلئے دیتا ہوں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسے حالات ہونگے اور میرے گھر میں اللہ کا دیا ہمارے لئے بہت تھا اور میرے بچوں کو کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔میرا سرجیکل کا کارخانہ اور پراپرٹی کا کاروبار ختم ہوگیا اور اب ہم اکثر فاقے کاٹتے ہیں اور کسی کو بتاتے بھی نہیں۔ جس کرب و اذیت سے ہم گزر رہے ہیں یہ ہم کو پتہ ہے یا اللہ تعالیٰ کوعلم ہے۔ اللہ تعالیٰ قوم کی ہر بیٹی کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔ جناب صدر پاکستان،جناب آرمی چیف، جناب وزیراعظم، وزیراعلیٰ، آئی جی، صحافی صاحبان، علماءصاحبان، وکیل صاحبان میری آپ سب سے اپیل بھی ہے اور نہایت ادب سے گزارش بھی کہ جو مثالی رویہ ملالہ بیٹی کیلئے اختیار کیا گیا ہے ہر اس قوم کی بیٹی کیلئے ہوناچاہئے جو کسی بھی طرح کے ظلم کا شکار ہوئی ہو۔ یہاں یہ بات بھی آپ کے علم میں لاناچاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی میری بیٹی حافظہ کی بازیابی کا حکم صادر فرمادیا ہوا ہے لہٰذا آپ سے بھی التماس ہے کہ میری بیٹی کو بازیاب کروایاجائے وطن عزیز کے ہر فرد کیلئے یکساں رویہ ہوناچاہئے۔
( محمد سجاد مغل ،سوہاوہ، نئی آبادی ڈسکہ ضلع سیالکوٹ0303-4541401)