عید کی آمد اور خواتین کی تیاریاں

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! رمضان المبارک کا مہینہ جو کہ رحمتوں کا مہینہ ہے، اس مباک ماہ میں قرآن پاک نازل کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر ماہ رمضان کے روزے فرض کئے اور اس ماہ میں انسان رضائے الٰہی کے لئے ہر طرح کے برے کاموں سے خود کو روکتا ہے اور نہایت صبر سے اس ماہ کے روزے رکھتا ہے۔ اس پر اس ماہ کے اختتام پر انعام کے طور پر عید کا تہوار آتا ہے۔ عیدالفطر کی آمد ہر مسلمان کو خوشیوں کی وادی میں پہنچا دیتی ہے اور تمام لوگ عیدالفطر کی تیاری نہایت اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان تیاریوں میں خواتین کی تیاریاں نہایت اہم ہیں۔ لڑکیاں، بچیاں، عورتیں اس سلسلے میں خاص تیاریاں کرتی ہیں۔ بازاروں میں مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی ہے اور نئے کپڑے خریدنا، زیورات جوتے، میک اپ وغیرہ کو خواتین عید پر خاص اہمیت دیتی ہیں اور بہترین چیز عید پر پہننا چاہتی ہیں۔ اس سلسلے میں قابلے کی فضا قائم ہوتی ہے۔ عید کے موقع پر ہم ہر صنف نازک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے سے بہترین لگے اور اس کی چیزیں دوسرے سے اچھی ہوں۔ خواتین کی اس کمزوری سے فائدہ دوکاندار حضرات اٹھاتے ہیں اور اپنی مرضی کی قیمتیں ان سے وصول کرتے ہیں اور خواتین بھی اس سلسلے میں وہ قیمت دینے پر تیار ہو جاتی ہیں لہٰذا رمضن کی آمد کے ساتھ ساتھ ہی بازاروں میں نت نئی چیزیں آنا شروع ہو جاتی ہیں اور خواتین بازاروں کا رخ کرتی ہیں۔ کوئی اپنے لئے چیزیں لینی ہیں تو کوئی اپنے بچوں کے لئے لینی ہیں۔ نیز عید کے دن نئی نئی ڈشیں بنانے کیلئے بھی بہت سی چیزیں خریدی جاتی ہیں اور مہمانوں کیلئے مختلف انواع کی ڈشیں بنائی جاتی ہیں۔ نیز خواتین رمضان کی آمد کے ساتھ ہی عید کے لئے اپنی تیاریاں شروع کر دیتی ہیں اور تممام مسلمان عید کو اللہ تعالیٰ کے اہم انعام کے طور پر مناتے ہیں۔
(اقراءصادق۔ لاہور گیریژن یونیورسٹی)