رمضان میں مہنگائی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دعوے

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! میں آپ کے جریدے کی وساطت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہر سال اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے خوش کن دعوے کرتی ہے لیکن رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اشیاءضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔ حکمران اور منافع خور اس مقدس مہینے میں لوگوں کو ریلیف دینے کی بجائے اشیاءخورد و نوش مہنگی کر دیتے ہیں۔ قیمتوں پر کنٹرول اور سستے بازاروں کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ ہوشربا مہنگائی کے باعث غریب آدمی کیلئے سحری و افطاری کا انتظام کرنا ممکن نہیں رہا۔ رمضان المبارک ایک ایسا مقدس اور برکتوں والا مہینہ ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمات انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرتے ہیں لیکن حکومتی ناہلی اور بے حسی نے عوام کیلئے ماہ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنا مشکل بنا دیا ہے۔ مہنگائی پر کنٹرول کرنا اور عوام کو روزمرہ کی چیزیں سستی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت پنجاب نے رمضان المبارک میں سستے بازاروں اور دیگر مقامات پر سستی اشیاءکے لئے چار ارب روپے رمضان پیکیچ دیا ہے لیکن افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ ان بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاءاور دیگر استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں جبکہ اشیاءکا معیار بھی ٹھیک نہیں۔ التجا ہے کہ مہنگائی پر کنٹرول کر کے کم از کم رمضان المبارک میں تو عوام کو تھوڑا سا ریلیف فراہم کیا جائے۔ (سمیع الرحمان ضیائ، منصورہ لاہور)