بجلی کا بحران اور ہم

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! بجلی بحران کے متعلق سنتے سنتے کان پک گئے ہیں۔ یہ ہے کہ حل ہونے ہی میں نہیں آ رہا۔ ساری قوم سڑکوں پر ہے، پھر بھی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ ریٹ ہیں کہ ہر ماہ بڑھے جاتے ہیں۔ بل تو بڑھتے جاتے ہیں لیکن بجلی کم ہوتی جا رہی ہے۔ آج اگر 100 یونٹ کا بل 1500 آیا ہے تو اگلے ماہ وہ 1700 کا بل آئے گا۔ کبھی ہم سنا کرتے تھے کہ کاروباری لوگ حکومت کے لاڈلے ہوتے ہیں آج وہی لاڈلے ہی سب سے زیادہ زیر عتاب ہیں۔ بجلی ہو گی تو مشین چلے گی۔ مشینیں چلیں گی تو پروڈکشن ہو گی۔ پروڈکشن ہو گی تو مزدور کی ضرورت پڑے گی۔ مزدور کی ضرورت ہو گی تو اس کو مزدوری ملے گی۔ مزدوری ملے گی تو اس کے گھر کا چولہا جلے گا۔ چولہا جلے گا تو اس کے بال بچوں کو کچھ کھانے کو ملے گا۔ حکومت ہو یا گھر کا بجٹ ترجیحات طے کرنا پڑتی ہیں۔ گھر میں کیا ہے اور کسی چیز کی ضرورت ہے جو نہیں ہے وہ لاﺅ۔ جو ہے اس میں گزارا کرو۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت سارے کام ایک طرف رکھ کر بجلی کے منصوبوں پر کام شروع کر دے۔ توانائی بحران حل کے لئے کانفرنسیں ہوں۔ یہاں تو نہ قومی سطح پر اور نہ ہی صوبائی سطح پر کسی کے پروگرام میں آج بھی بجلی پہلی ترجیح نہیں۔ صوبائی حکومت اگر لیپ ٹاپ تقسیم کر رہی ہے، سڑکیں بنا رہی ہے، دانش سکول بنا رہی ہے، پیلی ٹیکسی تقسیم کر رہی ہے۔ سستی روٹی دوسری طرف مرکزی حکومت بے نظیر سپورٹ وطن کارڈ اور پتہ نہیں کیا جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے لوگوں کو نوازنا ہوتا ہے۔ بجلی کا جو بحران نظر آ رہا ہے اس کے مطابق بحران بجلی کا نہیں رقم کا ہے۔ کمپنیوں کو اگر رقم مل جائے تو بجلی کا بحران حل ہو سکتا ہے۔
حاجی محمد لطیف کھوکھر، مکان نمبر 25 گلی نمبر 13 کاردار پارک موہنی روڈ لاہور)