ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! احمد مختار صاحب نے شاہ کا مصاحب بنتے ہوئے ایک بیان دیا کہ صدر اور وزیر اعظم ہاﺅس میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہئے، میرا ان سے کہنا ہے کہ مسلمان حکمران اور عوام میں کسی قسم کا تفرقہ نہیں ہوتا۔ خلیفہ اوّل جناب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب خلافت سنبھالی تو انہوں نے اپنی تنخواہ ایک دیہاڑی دار مزدور کے مطابق مقرر کی جب دوسرے صحابہؓ نے کہا یہ تو بہت کم ہے، آپ خلیفہ ہیں اس میں گزارہ مشکل ہے تو آپ نے فرمایا اگر ایک مزدور گزارہ کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں اور اگر گزارہ ممکن نہیں تو اس کی تنخواہ بھی بڑھاﺅ۔ اسی طرح جب خلیفہ دوئم حضرت عمرؓ بیت المقدس کے لئے روانہ ہوئے تو ایک اونٹ اور ایک غلام تھا۔ حضرت عمرؓ اور غلام بار باری اونٹ پر سوار ہوتے اور باری باری پیدل چلتے جبکہ وہ ایسے عظیم فاتح تھے کہ جن کے نام سے غرب و عجم کانپ اٹھتا تھا جب ہمارے خلفاءکو کسی قسم کا استثنیٰ حاصل نہیں تھا تو جناب احمد مختار صاحب اگر ایوان صدر و وزیر اعظم ہاﺅس میں لوڈشیڈنگ ہو گی تو انہیں گرمی سے بلکتی ہوئی غریب عوام کا احساس ہو گا ۔ وزیر تو اے۔سی لگے کمروں میں دنیا میں جنت کا مزہ لوٹیں گے اور غریب عوام جو مہنگائی کے ہاتھوں کچھ بچ گئی تھی اب اس جان ہوا لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں مر رہی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قول اگر اس زمانے کے حساب سے ہو تو جناب زرداری کو یہ کہنا چاہیے۔ اگر پاکستان میں کوئی بندہ گرمی سے مر جائے تو میں قباحت کے دن اس کے لئے جوابدہ ہوں گا۔
(ریحانہ سعیدہ، مکان نمبر23 اکبر سٹریٹ31/A برنی روڈ گڑھی شاہو لاہور)