طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج جاری‘ نصیر آباد میں طوفان بارش سے تباہی

لاہور+ ڈیرہ مراد جمالی (نامہ نگاران+ ایجنسیاں) طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رہا، لوڈشیڈنگ سے کاروبار شدید متاثر ہوئے۔ کئی علاقوں میں پانی کی بھی قلت رہی جبکہ نصیرآباد میں طوفان اور بارشوں نے تباہی مچا دی اور کئی مکانات کی چھتیں اور سائن بورڈ گر گئے جبکہ بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ رہا‘ شہری علاقوں میں 10 اور دیہی علاقوں میں 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ وہاڑی سے نامہ نگار کے مطابق تیز آندھی کے باعث متعدد سائن بورڈ اور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، متعدد علاقوں کی بجلی معطل ہو گئی۔ ادھر نصیرآباد کے مختلف علاقوں ڈیرہ مرادجمالی، چھتر، منجھوشوری، ربیع اور میرحسن میں طوفانی ہواﺅں اور بارش نے تباہی مچادی جس کے باعث کچے مکانات کی چھتیں اور سائن بورڈز گرگئے اور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور بجلی کے کھمبے گرنے کے باعث ڈیرہ مرادجمالی سمیت کئی علاقوں کی بجلی منقطع ہوگئی۔ آن لائن کے مطابق بھارت میں گرمی کی شدت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ بھارتی ریاست آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں شدید گرمی کے باعث ہسپتال مریضوں سے بھر گئے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق گیپکو نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا رخ دیہات کی طرف موڑ دیا، تین، تین گھنٹوں کی مسلسل لوڈشیڈنگ پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ شہر اور اس کے بیشتر علاقوں میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ایک بار پھر طول پکڑنے لگا تاہم شہری علاقوں میں 10سے 12دیہی علاقوں میں مسلسل تین، تین گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ 14سے 16گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کاروباری، تجارتی، صنعتی، گھریلو دفتری امور شدید متاثر ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ کئی دنوں سے شہر کے متعدد علاقوں میں گیس کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے گھریلو و کمرشل صارفین گیس کی سہولت سے محروم ہو کر رہ گئے جبکہ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سائلین نے سوئی گیس آفس کے باہر احتجاج بھی کیا جبکہ صارفین کا کہنا تھا کہ چند علاقوں کو ایک منصوبے کے تحت جان بوجھ کر گیس کی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو ان علاقوں کے مکین سوئی گیس دفتر کا گھیراﺅ کرینگے اور بل بھی جمع نہیں کروائیں گے۔
لوڈشیڈنگ/ احتجاج