بھٹوں سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ،بیوروکریسی نے روایتی حربے اپنا لئے

لاہور (فرخ سعید خواجہ) وزیراعلیٰ شہباز شریف کے صوبے میں چائلڈ لیبر کے خاتمے بالخصوص بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے چھ ماہ کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے کام کرنے کی بجائے بیوروکریسی نے روایتی حربوں کو استعمال کرتے ہوئے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کے اعداد و شمار حاصل کرنے کیلئے وزارت محنت کے پاس پہلے سے موجود معلومات سے استفادہ کرنے کی بجائے طویل راستہ اختیار کیا ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو اس کام میں شامل کیا ہے کہ بھٹوں کا سروے کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک سوالنامہ تیار کیا گیا ہے جس کے جواب حاصل کرنے کیلئے این جی اوز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ این جی اوز کو ادائیگی کیلئے 1 کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے جبکہ 2 کروڑ روپے کی رقم سے افسروں کی ٹرانسپورٹ کیلئے 8 بولان گاڑیاں خریدنے کے علاوہ چائلڈ لیبر کی رجسٹریشن کیلئے بائیو میٹرک نظام کا بندوبست کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈی سی اوز کی سربراہی میں پہلے سے ڈسٹرکٹ ویجلنس کمیٹیاں موجود ہیں جن میں ڈسٹرکٹ لیبر افسر‘ بھٹہ مزدور یونین کا نمائندہ اور بھٹہ مالکان شامل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ضلع میں قائم بھٹوں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ البتہ ان بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ضرورت تھی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں 10 ہزار بھٹے رجسٹرڈ ہیں۔ صرف لاہور میں 167 بھٹے ہیں جن میں فی بھٹہ 200 سے 250 مزدور کام کرتے ہیں جن میں بچوں کی تعداد لگ بھگ فی بھٹہ چالیس سے پچاس ہے۔ اس طرح صرف لاہور میں 8 ہزار کے لگ بھگ بچے بھٹوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے کیلئے اگلے پانچ ماہ میں کیا اقدامات کئے جائیں گے۔ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس سلسلے میں ابھی کچھ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ وزارت محنت پنجاب نے صوبے سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے جنوری فروری میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کو بریفنگ دی تھی اور اس مقصد کیلئے ساڑھے پانچ ارب روپے کی رقم مانگی تھی جس کی منظوری وزیراعلیٰ نے دے دی تھی۔ بیوروکریسی نے فیصل ٹا¶ن میں اس سلسلے میں INTEGRATTED PROJECT ELIMINATION OF CHILD AND BONDED LABOUR قائم کیا ہے تاہم اس میں ذمہ داری ان لوگوں کو ہی سونپی گئی ہے جنہوں نے 2008ءمیں لاہور اور قصور میں بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو بھٹہ مالکان کی جانب سے قائم کئے گئے ایک ایک کمرے کے 200 سکولوں میں تربیت دلوا کر سرکاری سکولوں میں داخل کروانا تھا۔ دونوں شہروں میں 5 سے 7 ہزار بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے کا ہدف دیا گیا تھا لیکن وہ اسے پورا نہیں کر سکے۔ اب دیکھنے والی بات ہو گی کہ وہی افراد ساڑھے پانچ ارب روپے کی خطیر رقم پر دانت تیز کریں گے یا اس رقم سے چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے خاتمے کیلئے شہباز شریف کے ہدف کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بیوروکریسی/ ہدف