آصف زرداری کا ستمبر میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی باضابطہ سربراہی پر غور

آصف زرداری کا ستمبر میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی باضابطہ سربراہی پر غور

لاہور (مبشر حسن / نیشن رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے انتخابی سیاست کر رہی ہے۔ تاہم پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے آصف زرداری کو پیشکش کی ہے کہ وہ ستمبر سے پارٹی کی باقاعدہ سربراہی شروع کر دیں۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے قانونی طور پر سربراہ اس وقت مخدوم امین فہیم ہیں تاہم درحقیقت اس کے معاملات آصف زرداری چلاتے ہیں۔ پارٹی ذرائع نے ’’دی نیشن‘‘ کو بتایا کہ آصف زرداری پر صدارت چھوڑنے کے بعد 2 سال تک کسی سیاسی پارٹی کی سربراہی کرنے پر پابندی کی مدت ستمبر میں ختم ہو رہی ہے اور پارٹی کی قیادت میں تجویز ہے کہ وہ اس موقع پر باضابطہ طور پر پارٹی کی قیادت سنبھال لیں۔ اس اقدام سے پارٹی ایک شخص کی قیادت میں آجائے گی اور پارٹی رہنماؤں کا قیادت کے متعلق ابہام بھی ختم ہو جائے گا۔ پارٹی کے بہت سے معاملات میں نوٹیفکیشن مخدوم امین فہیم کے نام سے جاری کئے جاتے ہیں لیکن بعض مرتبہ ان کو اس سے متعلق اعتماد میں بھی نہیں لیا جاتا۔ شیری رحمان کو نائب صدر بنانے کے متعلق نوٹیفکیشن پر اعتماد میں نہ لئے جانے پر امین فہیم ماضی میں شکوہ بھی کر چکے ہیں۔ مشرف کے دور میں الیکشن کے امیدوار کیلئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ امیدوار اپنے کاغذات جمع کراتے وقت ریٹرننگ آفیسر کے سامنے خود پیش ہو۔ اس وقت بے نظیر بھٹو جلاوطن تھیں لہٰذا امین فہیم کی صدارت میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے نئی جماعت بنائی گئی تھی۔ دو سال قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے الیکشن کمشن میں پارٹی رجسٹرڈ کرا لی گئی تھی جس کے پیٹرن ان چیف بلاول بھٹو زرداری اور سیکرٹری جنرل لطیف خان کھوسہ ہیں۔ یہ اس وقت کیا گیا جب ناہید خان اور صفدر عباسی نے الیکشن کمشن میں اسی نام کی پارٹی کا دعویٰ کیا تھا۔