پولیس کی طرف سے چند روز قبل پکڑے گئے 3 دہشتگردوں نے دوران تفتیش ’’را‘‘ سے تعلق کا اعتراف کر لیا۔

لاہور ( نامہ نگار ) سی آئی اے پولیس کی طرف سے چند روز قبل پکڑے گئے 3 دہشتگردوں نے دوران تفتیش ’’را‘‘ سے تعلق کا اعتراف کر لیا۔ ملزموں کی گرفتاری سے کالعدم جماعۃ الدعوۃ کے ہیڈ کوارٹرز اور دیگر مراکز سمیت اہم عمارتوں کو بم دھماکوں سے تباہ کرنے کے منصوبے ناکام ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق پکڑے گئے دہشتگردوں کے نام محمد فیاض عرف فاجہ، محمد اکرم عرف میاں اور شہزاد بھٹی ہیں‘ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر محمد پرویز راٹھور نے گز شتہ روزپریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزموں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ بارڈر ایریا کے رہائشی ہیں اور سمگلنگ کرتے تھے اس وجہ سے بھارتی ایجنسی را کے آلہ کار بن گئے۔ ان کے بھارتی ایجنسی را کے افسران کمار، بخشی ، چوپڑا، وجے، مہتا (بم ایکسپرٹ)۔ چوہدری پرتیب، شرما اور ڈرائیور مان کے ساتھ رابطے تھے۔ جن کا دفتر رنجیت ایونیو پرائیوٹ سوسائٹی امرتسر انڈیا میں ہے۔ ان کی ہدایت پر ایک کالعد م تنظیم کے عہد ید ا ر اعظم چیمہ ،سریالی زیر تعمیر پل نہر ، کالعدم جماعۃ الدعوۃ کے دفاتر واقع موچی گیٹ لاہور، جامعہ قادسیہ چوبرجی ، مسجد اقصیٰ بہاولپور، جامعہ مسجد ملت پارک چوک فیصل آباد، مانسہرہ، مرید کے اور چیچہ وطنی کی ریکی کر کے ان کی تصاویر بھارتی ایجنسی را کے حوالے کی جا چکی ہیں اور اس کے عوض ملزمان نے را سے لاکھوں روپے وصول کئے۔ ملزمان جامعہ مسجد اقصیٰ بہاولپور اور اعظم چیمہ کی ریکی اور تصاویر اتارنے کے بعد بھارت گئے۔ تصویریں چوپڑا کو دیں اور اعظم چیمہ کی ریکی کی متعلق بریف کیا۔را کے افسران نے ملزمان کو امرتسر میں شاپنگ کروائی اور اعظم چیمہ پر مسجد اقصیٰ میں بم بلاسٹ کرنے کا ٹارگٹ دیا اور بطور معاوضہ تین لاکھ روپے دیئے۔ تینوں واپس آکر کر بہاولپور گئے۔ بم کو مسجد کی سیٹرھیوں کے نیچے رکھ دیا۔ تاہم اعظم چیمہ کے نہ آنے کی وجہ سے بم واپس لے آئے اور راستہ میں نہر میں پھینک دیا۔ ملزموں نے 17 نومبر 2006ء کو ایف سی کالج کے قریب فیروزپور روڈ پر دھماکہ کیا جس میں 2 افراد ہلاک15 زخمی ہوئے۔ را نے تین لاکھ 50ہزار روپے بطور انعام دیئے۔ملزموں نے آئندہ موچی گیٹ لاہور، چوبرجی لاہور، جامعہ مسجد ملت چوک فیصل آباد ،مانسہرہ، مرید کے اور چیچہ وطنی میں بم دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی جن کے بروقت پکڑے جانے پر ان کے تمام منصوبہ جات ناکام ہو گئے۔ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات کی توقع ہے۔ پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مشتاق احمد سکھیرا، ایس ایس پی انوسٹی گیشن ذوالفقار حمید اور ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک بھی مو جو د تھے۔سی سی پی او لا ہور نے پو لیس ٹیم کے لئے نقد ا نعام اور تعر یفی اسناد کا ا علان کیا ہے۔ ریڈیو نیوز کے مطابق ملزموں نے کہا کہ وہ اب تک وہ سات بار واہگہ بارڈر کے قریب بھارت کے گیٹ نمبر 139 کے ذریعے داخل ہوئے۔ وہ دہشت گردی کے علاوہ پاکستان کے حساس علاقوں کی تصاویر اور مووی بنا کر را دیتے تھے۔
را کے دہشتگرد