ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے لاہور سمیت ملک بھر میں وکلاء نے بھرپور احتجاج کیا

لاہور + شیخوپورہ (وقائع نگار خصوصی + وقائع نگار + نمائندگان) ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے لاہور سمیت ملک بھر میں وکلاء نے بھرپور احتجاج کیا اور مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں اور حکمرانوں کے خلاف اور ججوں کی بحالی کے لئے زبردست نعرے بازی کی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے جنرل ہاؤس کے اجلاس میں 24 جنوری کو لاہور ایئرپورٹ پر وکلاء پر ریاستی تشدد کے حوالے سے ایک مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے‘ وکلاء نے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے‘ جبکہ علی احمد کرد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9 مارچ کو رکاوٹ ڈالی گئی تو جو ہو گا حکومت کو بھی علم ہے‘ جسٹس افتخار کو کورٹ نمبر 1 میں بٹھا کر ہی شاہراہ دستور سے اٹھیں گے۔ جبکہ اعتزاز احسن نے کہا کہ اس مرتبہ دھرنا حتمی ہو گا اور یہ ضرور کامیاب ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار نے جی پی او چوک سے اور لاہور ڈسٹرکٹ بار نے ایوان عدل سے فیصل چوک (اسمبلی ہال) تک مشترکہ ریلی نکالی۔ ریلی کی قیادت کرد‘ انور کمال‘ رانا اسد اللہ‘ شوکت عمر پیرزادہ‘ عبدالرحمن انصاری‘ رانا ضیاء عبدالرحمن اور انکی نومنتخب باڈی و دیگر نے کی جبکہ اسمبلی ہال کے سامنے‘ علی کرد‘ انور کمال‘ رانا ضیاء عبدالرحمن‘ حافظ عبدالرحمن انصاری و دیگرنے خطاب کیا۔ ریلی میں طلبہ‘ سول سوسائٹی‘ مسلم لیگ (ن)‘ جماعت اسلامی‘ تحریک انصاف‘ خاکسار تحریک‘ پختون خواہ ملی عوامی پارٹی‘ لیبر پارٹی‘ کیمونسٹ پارٹی‘ جمعیت علمائے پاکستان (نفاذ شریعت گروپ) اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ اسمبلی ہال چوک میں خطاب کرتے ہوئے وکلاء رہنمائوں نے کہا کہ حکمران وکلاء کو دھمکیاں دینے کی بجائے چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کو بحال کریں۔ وکلاء لانگ مارچ اور دھرنے کو ہر صورت کامیاب بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران انہیں مجبور نہ کریں کہ وہ انکے خلاف بھی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں۔ ریلی میں رانا اسد اللہ‘ میاں طارق جاوید‘ جاوید میاں جلال‘ طارق اسد‘ بابر خلجی‘ مدثر بودلہ‘ ضیاء اللہ منج‘ نصرت جاوید‘ شوکت عمر پیرزادہ‘ نثار صفدر‘ وسیم بٹ‘ اقبال دھینگل‘ شمیم ملک‘ میاں اسلم‘ چودھری ذوالفقار‘ ربیعہ باجوہ‘ چودھری نذیر‘ آفتاب احمد‘ محمد شاہ‘ تحسین عرفان‘ اللہ بخش کوندل‘ مس فردوس بٹ‘ اطہر محمود‘ انجینئر سلیم اللہ خان نے بھی شرکت کی۔ انور کمال نے کہا کہ ہماری تحریک قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے ہے‘ سیاسی پارٹیاں اس تحریک میں شامل نہ ہوئیں پھر بھی ہماری تحریک جاری و ساری اور لانگ مارچ ہو کر رہے گا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ تمام معزز وکلاء صاحبان سے درخواست کی کہ وہ جسٹس افتخار کی بحالی کیلئے ہمارے شانہ بشانہ چلیں‘ منعقدہ اجلاس میں میاں اسلم‘ رانا اسد اﷲ‘ سیدہ فیروزہ رباب فنانس سیکرٹری کے علاوہ وکلاء کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس سے رانا اسد اﷲ‘ حافظ عبدالرحمن‘ ملک منصف‘ عبدالمتین چودھری‘ شفقت چوہان‘ محمد طاہر سلہری‘ خادم حسین قیصر‘ راجہ ذوالقرنین‘ ولی محمد خان‘ اﷲ بخش گوندل نے بھی خطاب کیا۔ دریں اثناء ایوان عدل بارروم میں خطاب کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا ہے کہ ہم انصاف کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اوراس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک چیف جسٹس کو بحال نہ کروا لیا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مارچ کو عدالتوں میں وکلا نہیں الو بیٹھیں گے‘ شوکت عمر پیرزادہ نے کہا کہ ہماری تحریک کو کامیابی کے بغیر روکنا کسی کے بس کی بات نہیں‘ رانا ضیاء عبدالرحمٰن نے کہا کہ اب ہمارے دل دھک دھک نہیں بلکہ دھرنا دھرنا کر رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے انٹرویو میں کہا کہ اگر کسی کو وہم ہے تو وہ دل سے نکال دے‘ اس مرتبہ لوگ پورے عزم سے آئیں گے‘ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے وعدے پورے نہ کر کے پیپلز پارٹ کی ساکھ خراب کی ہے۔ لاہور میں خاکسار تحریک کے قائد حمید الدین المشرقی نے کارکنوں کے ہمراہ شرکت کی اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو جان لینا چاہئے جمہوریت اور آزاد عدلیہ لازم و ملزوم ہیں۔ ملتان میں بھی وکلاء نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور مظاہرے کئے اور ریلیاں ڈکالیں۔ ملتان بار سے نکالی جانے والی ریلی کی قیادت جاوید ہاشمی نے کی۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق وکلاء نے ہڑتال کی تاہم اس دوران عدالتیں لگی رہیں۔ بعدازاں ضلع کچہری میں احتجاجی مظاہرے کے بعد ریلی بھی نکالی گئی۔ ننکانہ سے نامہ نگار کے مطابق وکلاء نے مکمل ہڑتال کر کے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔
وکلاء احتجاج