پاکستان کی مشکلات کا خاتمہ نہیں ہو سکا‘ ہمیں ”یوم توبہ“ منانا چاہیے : ڈاکٹر مجید نظامی

پاکستان کی مشکلات کا خاتمہ نہیں ہو سکا‘ ہمیں ”یوم توبہ“ منانا چاہیے : ڈاکٹر مجید نظامی

لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلمانان برصغیر اقلیت اور کمزور حیثیت میں ہونے کے باوجود اپنے لئے علیحدہ ملک بنانے کے قابل ہوئے اور اس کا سارا کریڈٹ حضرت قائداعظمؒ کو جاتا ہے۔ قائداعظمؒ دوچار سال مزید زندہ رہتے تو پاکستان کے حالات بہت مختلف ہوتے۔ پاکستان کو جو مشکلات قیام کے وقت درپیش تھیں ان کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہو سکا اس لئے ہمیں ”یوم توبہ“ منانا چاہئے۔ اساتذہ¿ کرام اپنے شاگردوں کے ذریعے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے میں کردار ادا کریں۔ پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان بنانے کیلئے کام کریں۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اورچیئرمین نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر مجید نظامی نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، لاہور میں اساتذہ¿ کرام کےلئے منعقدہ ایک روزہ نظریاتی تربیتی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس ورکشاپ میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر جسٹس (ر) منیر احمد مغل اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید بھی موجود تھے۔ ورکشاپ کا آغاز حسب معمول تلاوت قرآن حکیم، نعت رسول مقبول اور قومی ترانہ سے ہوا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سید عابد حسین شاہ نے انجام دئیے۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ پنجاب حکومت سے کئے گئے ہمارے مطالبے کی بنیاد پر اس ایوان میں روزانہ مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات آتے ہیںاور ہم انہیں دوقومی نظریہ ، تحریک پاکستان، مشاہیر تحریک آزادی کے افکار و خیالات اور قیام پاکستان کے حقیقی اسباب و مقاصد سے آگاہ کر رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ اس پروگرام میں اساتذہ¿ کرام بھی شامل ہو گئے اور یہ ہماری جرات رندانہ ہے کہ ہم اساتذہ¿ کرام کو بھی لیکچر دینے کیلئے بلا رہے ہیں۔ میں نے استاد کو ہمیشہ استاد سمجھا ہے اور آپ سب بھی میرے لئے قابل احترام ہیں، اس کے ساتھ ساتھ میں اپنا فرض بھی ادا کر رہا ہوں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ یہاں میں جو باتیں کر رہا ہوں ازراہ کرم اسے اپنے شاگردوں تک ضرور پہنچائیں۔ انہوں نے کہا ہم نے اس نیم براعظم میں اقلیت میں ہوتے ہوئے ایک ہزار سال تک حکومت کی اور پشاور سے لے کر راس کماری تک ہم نے گھوڑے دوڑائے اور قبضہ کر لیا ۔ ہندو کو یہ قبول نہیں تھا کہ وہ بھارت ماتا پر مسلمانوں کو حکومت کرنے کا موقع دے لیکن مجبوراً انہوں نے اپنے آپ کو خدمت کیلئے پیش کردیا۔ اس کے بعد یہاں انگریز آگیا تو ہندوﺅں نے ان کی پوری تابعداری کی۔ مسلمان چونکہ حکمران تھے اس لیے انہوں نے بغاوت کا راستہ اپنایا اور جو بغاوت کی سزا ہوتی ہے وہ آپ جانتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں نے انگریزی تعلیم کا بھی بائیکاٹ کیا جس کا انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا اور تمام اچھی نوکریاں ہندوﺅں کے پاس چلی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ازراہ کرم نئی نسل کو تحریک پاکستان، نظریہ¿ پاکستان اور مسلم لیگ کی خدمات کے بارے میں ضرور آگاہ کریں‘ میں اس مسلم لیگ کی بات کر رہا ہوں جس نے یہ ملک بنایا تھا اور جو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی مسلم لیگ تھی۔ اُس وقت مسلمانوں کے بےشمار رہنماﺅں نے اس تحریک کی مخالفت کی‘ ان میں علمائے کرام، مجلس احرار سمیت متعدد جماعتیں تھیں۔ میں اسلامیہ کالج کا طالب علم تھا اور مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ قائداعظمؒ اسلامیہ کالج میں خطاب فرما رہے تھے کہ اچانک اذان شروع ہو گئی اور آپ خاموش ہو گئے حالانکہ اِس وقت اذان کا وقت بھی نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے دیکھا کہ علامہ مشرقی جلسے میں تشریف لائے اور کہا کہ میں بھی خطاب کرنا چاہتا ہوں۔ قائداعظمؒ نے کہا کہ میں جلسے کا منتظم نہیں ہوں آپ منتظمین سے بات کریں۔ قائداعظمؒ نے بھانپ لیا کہ وہ انتشار پھیلانا چاہتے ہیں چنانچہ وہ سٹیج سے نیچے اتر آئے اور جلسہ گاہ سے باہر آگئے۔ جلسہ کرنیوالے طالب علم تھے لہٰذا ہم نے علامہ مشرقی کی خوب خاطر تواضع کی۔ اس سے آپ اندازہ لگالیں کہ جب پاکستان بن رہا تھاکن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ واضح ہو گیا کہ اب پاکستان بننے والا ہے تو انگریز نے کوشش کی جہاں تک ہو سکے کٹا پھٹا پاکستان بنا کر دیا جائے۔ ضلع گورداسپور میں ہندو اکثریت نہیں تھی لیکن کشمیر تک راستہ دینے کیلئے اسے ہندو اکثریتی ضلع بنا کر بھارت کے حوالے کر دیا اور اس نے اس راستہ سے کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اگر قائداعظمؒ دوچار سال مزید زندہ رہتے تو پاکستان کے حالات بہت مختلف ہوتے۔ چند برسوں بعد بنگلہ دیش بن گیا اور ملک دولخت ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو اخباری تنظیموں اے پی این ایس اور سی پی این ای کے ممبر کی حیثیت سے میں اکثر بنگال جاتا رہتا تھا اور وہاں میری بھاشانی اور شیخ مجیب سے بھی ملاقات ہوتی تھی۔ ایک بار شیخ مجیب الرحمن گرفتار ہو گئے اور رہائی کے بعد غلام جیلانی کے گھر میری اس سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اس سے کہا کہ الیکشن ہونیوالے ہیں آپ اس میں حصہ لیں اور اگر اکثریت ملی تو حکومت کریں۔ اس نے کہا مجید بھائی‘ مجھے کون حکومت کرنے دے گا۔ میں نے کہا کہ آپ بے شک دو دارالحکومت بنا لیں اور ڈھاکہ میں بیٹھ کر حکومت کریں۔ اس نے کہا کہ فوج مجھے ایسا نہیں کرنے دے گی۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ آگے آئیں ہم آپ کی حمایت کریں گے لیکن اس نے میری بات نہ مانی کیونکہ اس کی نیت بنگلہ بندھو بننے کی تھی لہٰذا وہ ڈٹ گئے اور بنگلہ دیش بنا کر دم لیا۔ آج اُس کی بیٹی بنگلہ دیش میں حکمران ہے اور وہ بھارت نواز ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اسے بنگلہ دیش کا وزیراعظم بنا دیا۔ مکتی باہنی دراصل ہندوﺅں کی فوج تھی اور وہ بنگلہ دیش بنا کر رہے۔ پاکستان جس عزم کے ساتھ بنا تھا یہ اللہ تعالیٰ کا ایک تحفہ تھا کہ ہم نبی کریم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسے ایک اسلامی، فلاحی، جمہوری ملک بنائیں گے‘ ہمیں اس پر عمل کرنا چاہئے۔ آپ اس وقت جس عمارت میں بیٹھے ہیں یہ ایک فقیر منش انسان غلام حیدر وائیں نے بنائی ہے۔ وہ میاں چنوں کے رہنے والے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی اپنے لیے کوئی گھر نہیں بنایا اور ان کی بیگم آج بھی اپنی بہن کے گھر رہتی ہیں۔ اگر ہمیں غلام حیدر وائیں جیسے دوچار اور اشخاص مل جاتے تو آج حالات مختلف ہو تے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران نہ جانے کیوں بھارت جانے کیلئے اس قدر بیتاب ہیں کہ بن بلائے بھی وہاں جانے کیلئے تیار ہیں ۔حالانکہ بھارت ایسا دشمن ہے کہ وہ بلائے بھی تو نہیں جانا چاہئے۔ مجھے صدارت، گورنری کی پیش کش کی گئی لیکن مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں نے یہ آفریں ٹھکرا دیں۔ جنرل ضیاءنے مجھے اپنی مجلس شوریٰ میں شامل کرنے کی بہت کوشش کی۔ میں نے انہیں خط لکھا کہ میں آپ کی بے عزتی نہیں کرنا چاہتا لیکن مجھے اس عہدہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایک مرتبہ جنرل ضیاءالحق نے کہا کہ میں آپ کے اخبار کو ایک انٹرویو دینا چاہتا ہوں لیکن آپ بھی ضرور آئیں۔ میں بھی چلا گیا لیکن دوران انٹرویو میں نے کوئی سوال نہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ آپ بھی کوئی سوال کریں۔ میں نے کہا سوال کرنے کی کوئی شرط نہ تھی لیکن انہوں نے اصرار کیا تو میں نے پنجابی میں سوال کیا ”ساڈی جان کدوں چھڈو گے (ہماری جان کب چھوڑیں گے)“ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ سوال نہ ہی کرتے تو اچھا تھا۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کہا کہ اساتذہ¿ کرام کو یہاں بلانے کا مقصد ان کی تربیت کرنا نہیں بلکہ ہم جو کام کر رہے ہیں اس میں آپ کی شرکت و رہنمائی درکار ہے۔ قبل ازیں اساتذہ¿ کرام نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں موجود تحریک پاکستان تصویری گیلری کا وزٹ بھی کیا۔
ڈاکٹر مجید نظامی