وکلا پر تشدد کے خلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں ہڑتال جاری، گوجرانوالہ میں ریلی

وکلا پر تشدد کے خلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں ہڑتال جاری، گوجرانوالہ میں ریلی

لاہور (اپنے نامہ نگار سے + نامہ نگاران) سپریم کورٹ کے باہر وکلا پر تشدد کے خلاف گذشتہ روز لاہور سمیت کئی شہروں میں وکلا نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس سے ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہزاروں مقدمات میں آئندہ تاریخ تاریخ سماعت کے لئے پیشی ڈال دی گئی اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلا نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔گوجرانوالہ میں وکلا نے ریلی نکالی۔ تفصیلات کے مطابق منگل کے روز اسلام آباد میں پولیس نے وکلا پر تشدد کے خلاف پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ لاہور کے وکلا نے ہڑتال کر کے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس سے سینکڑوں سائلین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ننکانہ سے نامہ نگار کے مطابق پر ڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور کوئی بھی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا۔ عدالتوں میں کیسوں پر نئی تاریخیں ڈال دی گئیں ہڑتال کے باعث دور دراز سے آئے ہوئے سائلوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلا رہنما¶ں نے کہا اگر حکومت نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی نہ کی تو احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق وکلا دن بھر سراپا احتجاج بنے رہے اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ضلع کچہری میں احتجاج مظاہرہ بھی کیا جبکہ سید ساجد الرحمن شاہ سمیت وکلا نے پولیس گردی کا نشانہ بننے والے وکلا سے اظہار یکجہتی کی خاطر علامتی بھوک ہڑتال بھی کی۔گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور سیشن کورٹ سے ڈی سی او آفس تک ریلی نکالی۔ قبل ازیں ڈسٹرکٹ بار کا جنرل اجلاس چودھری عرفان سعید کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی جس میں ہر سال 26 نومبر کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ فیصل آباد، سرگودھا، پاکپتن، کمالیہ اور دیگر شہروں میں بھی وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔
وکلا ہڑتال جاری