گجرات میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے ورثاءکا وزیراعلیٰ ہاﺅس کے باہر احتجاج

لاہور (نامہ نگار) گجرات کے تھانہ ٹانڈہ کے نواحی گاﺅں شیخ علی کے میں کانسٹیبل سمیت 6افراد کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے ورثاءنے گذشتہ روز ماڈل ٹاﺅن میں وزیراعلیٰ ہاﺅس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ اس موقع پر متاثرہ لڑکی نے خودسوزی کی کوشش بھی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ گجرات تھانہ ٹانڈہ کے نواحی گاﺅں شیخ علی کے رہائشی اقبال، اس کی بیٹی مریم اور دیگر اہلخانہ نے گذشتہ روز وزیراعلیٰ ہاﺅس، ایچ بلاک، ماڈل ٹاﺅن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اقبال نے کہا کہ پولیس کانسٹیبل شہزاد، بگا، ظفر، گلا، نصر وغیرہ گن پوائنٹ پر گھر سے میری بیٹی مریم کو اغواءکرکے ڈیرے پر لے گئے اور اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ملزمان سے ملی بھگت کرکے برآمد ہونے والا اسلحہ اور گاڑی سمیت دیگر شہادتیں غائب کر دی ہیں اور اب تفتیشی الیاس اور ایس ایچ او صلاح الدین بٹ صلح کیلئے ہمیں ہراساں کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی سیاستدانوں کی پشت پناہی کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ علاوہ ازیں احتجاج کے دوران متاثرہ لڑکی مریم نے خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی جسے وہاں پر موجود افراد نے ناکام بنا دیا۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ مقدمہ تفتیش تبدیل اور ملزمان کی پشت پناہی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس سلسلہ میں ڈی پی او گجرات سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ چھ کے چھ ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں اور ان کو چالان کرکے جیل بھجوا دیا گیا ہے۔