پنجاب کی 26 جیلوں میں 5989 سزائے موت کے قیدی بڑا خطرہ بن گئے

لاہور (رپورٹ: میاں علی افضل سے) پنجاب کی 32 جیلوں میںسے 26 جیلوں میں خطرناک سزائے موت کے 5 ہزار 9 سو 89 مرد قیدی موجود ہیں جبکہ 36خواتین کو بھی سزائے موت کی سزا ہو چکی ہے۔ پھانسی کی سزا ہونے کے باوجود کئی سالوں سے ان قیدیوں کے کیسز مختلف عدالتوں میں چل رہے ہیں جو ان قیدیوں کی سزا میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں موجود یہ قیدی جیلوں کےلئے بہت بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ محکمہ جیل خانہ جات کیلئے اتنی زیادہ تعداد میں ان خطرناک قیدیوں کو سنبھالنا مشکل ہو تا جا رہا ہے اور محکمہ جیل خانہ جات کی جانب سے ان خطرناک سزائے موت کے قیدیوں پر جیل میں 24 گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان خطرناک سزائے موت کے قیدیوں میں سے 4 ہزار 5 سو 52 مرد قیدیوں اور 32 خواتین قیدیوں کے کیسز ہائیکورٹ، 897 مرد قیدیوں اور 3 خواتین قیدیوںکے کیسز سپریم کورٹ، 10 مرد قیدیوں کے کیسز شریعت کورٹ، 14 مرد قیدیوں کے کیسز فوج کے پاس ہیں۔ 4 سو 53 مرد قیدیوں کی رحم کی اپیل صدر پاکستان کے پاس پڑی ہے جس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ صدر کی جانب سے 63 مرد قیدیوں اور 1خاتون قیدی کی رحم کی اپیل مسترد کر دی گئی ہے۔ ان خطرناک سزائے موت کے قیدیوں میں سے سنٹرل جیل لاہور میںسزائے موت کے 526 مرد اور 8 خواتین قیدی، سنٹرل جیل گوجرانوالہ میں سزائے موت کے 418 مرد اور 5 خواتین قیدی، سنٹرل جیل ساہیوال میں سزائے موت کے 506 مرد اور 2 خواتین قیدی، ڈسٹرکٹ جیل قصور میں سزائے موت کے 235 قیدی، ڈسٹرکٹ جیل لاہور میں سزائے موت کے 2 قیدی، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں سزائے موت 241 قیدی اور دیگر جیلوں میں ہزاروں قیدی قید ہیں۔ اسی طرح لاہور ریجن کی جیلوں میں خطرناک قید سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 2 ہزار 205 ہو گئی ہے۔