پاراچنار دھماکوں کیخلاف دوسرے روز بھی احتجاج، سنی اتحاد کونسل نے یوم مذمت منایا

لاہور، گوجرانوالہ، پشاور، تہران، کابل (خصوصی نامہ نگار+ نمائندہ خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) پاراچنار میں دھماکوں کے خلاف مجلس وحدت المسلمین کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ پشاور میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ لاہور میں بھی دھرنا دیا گیا۔ پشاور میں مظاہرین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دھماکوں کے لواحقین کو 10 لاکھ اور زخمیوں کو 7 لاکھ معاوضہ دیا جائے۔ مظاہرین کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کی خواتین ونگ کی صدر نسرین نقوی اور ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری منظور کر رہے تھے۔ دریں اثناءایران نے کرم ایجنسی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور پوری قوم کے ساتھ دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس نے کہا کہ ایرانی حکومت اور قوم پاکستانی عوام خصوصاً ان متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی پاراچنار میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ دریں اثناءسنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پر پاراچنار دھماکوں کے خلاف ملک گیر یومِ مذمت منایا گیا۔ سانحہ¿ کے خلاف اجتماعات منعقد کئے گئے اور مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ صاحبزادہ حامد رضا نے جامعہ رضویہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ حکمران دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل بنانے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حیدر آباد میں مرکزی سیکرٹری جنرل طارق محمود جبکہ لاہور میں پیر اطہر القادری نے بھی خطاب کیا۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق مرکزی جامع مسجد انوار مدینہ میں احتجاجی مذمتی منعقدہ جلسہ سے صاحبزادہ پیر محمد داﺅد رضوی، الحاج سرفراز احمد تارڑ، مفتی غلام نبی جماعتی، مفتی محمد حسین صدیقی، حافظ محمد رفیق قادری، صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی، مفتی محمد سعید رضوی، قاری غلام سرور حیدری، مولانا محمد خالد حسن مجددی، قاری محمد اشرف شاکر، قاضی محمد یعقوب رضوی، محمد ارشد مصطفائی، محمد اکرم رضوی اور دیگر نے خطاب کیا۔
مظاہرے