مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمشن کرائیگا‘ میعاد چار سال ہو گی

لاہور (اے پی پی) نئے بلدےاتی نظام مےںمقامی حکومتوں کےلئے انتخابات الیکشن کمشن منعقد کرائے گا‘ مقامی حکومتوں کی میعاد چار سال ہو گی‘ کونسلرز کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہو گا تاہم سیاسی جماعتیں اپنے عہدیداروں اور کارکنوںکو انتخاب لڑا سکتی ہیں جبکہ مقامی حکومتوں کے جماعتی یا غیر جماعتی بنیاد پر انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ صوبائی اسمبلی کرے گی۔ مقامی حکومت کی انتظامی اتھارٹی میئر یا چیئرمین کو حاصل ہو گی۔ حکومت کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ایک ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین پنجاب لوکل گورنمنٹ کمشن کی سفارشات کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے گا۔ نئے بلدیاتی بل 2013ءمیں تجویز کیا گیا ہے کہ صوبائی ڈائریکٹر‘ لوکل فنڈ آڈٹ ضلع حکومتوں ماسوائے یونین کونسلز‘ ضلعی تعلیم و صحت اتھارٹی کے اکاﺅنٹس کی نگہداشت کرے گا جبکہ سیکرٹری یونین کونسل‘ یونین کونسل کے اکاﺅنٹس کی نگہداشت کرے گا‘ اکاﺅنٹنٹ جرنل اور ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اور ہیلتھ اتھارٹی کے اکاﺅنٹس کی نگہداشت کرے گا ‘ آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقامی حکومتوں کے آڈٹ کا انتظام کرے گا۔ بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ مقامی سطح پر پر امن تصفیے کے لئے ہر یونین کونسل دیہی علاقے میں پنچائیت جبکہ شہری مقامی حکومت ہر وارڈ میں مصالحت انجمن تشکیل دے گی جو کہ پانچ ممبران پر مشتمل ہو گی۔ مقامی حکومت کے ممبران پنچائیت‘ مصالحت انجمن میں شامل نہیں ہوں گے۔ عدالت یا پولیس جھگڑے کے تصفیے کے لئے پنچائیت یا مصالحت انجمن کو معاملہ بھیج سکتی ہے۔ نئے بلدیاتی نظام میں ضلعی حکومتوں کی آئینی مدت چار سال ہو گی‘ ماسوائے لاہور دیہی علاقوں میں یونین کونسلیں و ضلعی کونسلیں ہوں گی‘ شہری علاقوں میں میٹرو پولٹین کارپوریشن‘ برائے ضلع لاہور میونسپل کارپوریشنز‘ میونسپل کمیٹیاں ہوں گی‘ ڈی سی او کا آفس ختم اور ڈپٹی کمشنر کا عہدہ بحال ہو جائے گا جبکہ مجسٹریٹسی نظام کو بھی کسی نہ کسی شکل میں بحال کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ یکطرفہ طور پر نہیں بلکہ لوکل میونسپل کمشن جس میں اپوزیشن کی نمائندگی بھی ہو گی اسکی سفارشات پر ہی کسی بھی میئر یا چیئرمین ضلع کونسل کو معطل کر سکیں گے۔