محکمہ ایکسائز کے عملہ نے کمپیوٹرائزڈ ٹرانسفر ڈیڈ کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا

لاہور (احسان شوکت سے) محکمہ ایکسائز کے زیراہتمام گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد کمپیوٹرائزڈ ٹرانسفر سیل ڈیڈ کا منصوبہ بھی خطرے میں پڑ گیا۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے زیادہ ریونیو کیلئے گاڑی کی خریدوفروخت کیلئے 3 سو روپے کی محکمانہ کمپیوٹرائزڈ سیل و ٹرانسفر ڈیڈ جاری کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اب محکمہ کے موٹر رجسٹریشن برانچ میں تعینات افسران و عملہ نے کمپیوٹرائزڈ سیل ڈیڈ کو ہتھیار بنا کر کرپشن کا بازار گرم کردیا ہے۔ گاڑی فروخت کرنے کیلئے کمپیوٹرائزڈ سیل ڈیڈ لازمی قرار دینے پر شہری خوار ہو کر رہ گئے۔ افسران اور عملہ نے سیل ڈیڈ ختم ہونے کا مصنوعی بحران پیدا کر کے شہری کو 3 سو کی بجائے ایک ہزار سے 15 سو روپے میں فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ ایجنٹوں کو چالان نکالے بغیر ہی اوپن سیل ڈیڈ کا اجراءکر دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر ایکسائز کے پی اے کے سفارشی جونیئر کلرک نے ایجنٹوں کو 26 اوپن ڈیڈ جن کے نمبر To507112 سے To507138 ہیں فراہم کردیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ انسپکٹر کلرک اور ڈی ای او منہ مانگی قیمت لے کر اوپن سیل ڈیڈ فروخت کررہے ہیں۔ اگر کوئی شہری ایجنٹ سے رابطہ نہیں کرتا تو اسے ٹرانسفر ڈیڈ نہیں ملتی۔ جہاں آج تین لاکھ سے زائد گاڑیو و موٹر سائیکلوں کو نمبر پلیٹ نہ ملنے پر کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہے وہیں محکمہ افسران و اہلکاروں کی طرف سے کمپیوٹرائزڈ سیل ڈیڈ کو کرپشن کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرنے سے یہ منصوبہ بھی ناکامی سے دوچار ہونے کے خدشات ہیں۔