لوڈ شیڈنگ جاری‘ شکر گڑھ میں مظاہرہ ‘ سڑک بلاک‘ گرمی اور حبس سے خاتون سمیت 3 افراد ہلاک

لاہور + اسلام آباد (نامہ نگاران+ نوائے وقت رپورٹ) رمضان المبارک کے دوران بھی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا اور لوگ سراپا احتجاج بنے رہے۔ کئی شہروں میں پانی کی بھی شدید قلت رہی جبکہ سحر اور افطار کے دوران بھی بجلی بند رہنے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شکرگڑھ میں لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، ٹائر جلاکر سڑک بلاک کر دی گئی جبکہ شدید گرمی اور حبس کے باعث ماموں کانجن میں خاتون سمیت 3افراد دم توڑ گئے جبکہ جہلم میں گرمی کے باعث کئی روزہ دار بھی بے ہوش ہو گئے۔ ماموں کانجن کے نواحی گاﺅں 505گ۔ ب کا فاضل، 510گ۔ ب کا شاہ محمد اور 53/4ٹکڑا کی ایک خاتون گرمی برداشت نہ کر سکے۔ حجرہ شاہ مقیم سے نامہ نگار کے مطابق بجلی چار چار گھنٹے غائب رہنے لگی۔ شکرگڑھ سے نامہ نگار کے مطابق درمان چوک اور گردونواح کی بجلی گذشتہ پانچ روز سے منقطع رہنے پر لوگوں نے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائر جلاکر روڈ بلاک کر دیا اور واپڈا انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی۔ مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے گرڈ سٹیشن پر پہنچ گئے تاہم یقین دہانی پر عوام پرامن منتشر ہو گئے۔ سرگودہا سے نامہ نگار کے مطابق مختلف علاقوں میں سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس اور بجلی بیک وقت بند کردیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے روزہ داروں کےلئے کھانے پکانے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ جوہر آباد سے نامہ نگار کے مطابق شہری علاقوں میں 18گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کردیا ہے۔ بہاولنگر سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق 12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا جبکہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق شہر اور اسکے گردونواح میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹوں سے بھی تجاوز کر گیا۔ جس سے کاروبار بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ واپڈا افسران نے عوام کو لوڈشیڈنگ سے متعلق بتانے کی بجائے اپنے فون بند کر دئیے جس پر شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق حکومتی دعوﺅں کے باوجود ننکانہ صاحب اور گردونواح میں سحری، افطاری اور نماز تراویح کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری رہا جس کے باعث روزہ داروں کو روزہ رکنے اور افطار کرنے جبکہ نمازیوں کو نماز تراویح کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے ان اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ شہریوں نے وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف سے مطالبہ کیا ہے کہ ننکانہ صاحب میں سحری، افطاری اور نماز تراویح کے اوقات میں واپڈا حکام کی طرف سے بلاوجہ کی جانے والی لوڈشیڈنگ کا فی الفور نوٹس لیں۔ علاوہ ازیں ترجمان وزارت پانی و بجلی کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 3300میگاواٹ رہ گیا، بجلی کی پیداوار 15ہزار 100اور طلب 18ہزار 400میگاواٹ ہے۔