عدالتوں میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات، پراسیکیوٹر جنرل، پنجاب اور پاکستان بار کونسلز کو نوٹس

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) لاہورہائی کورٹ کے سپیشل ڈویژن بنچ نے عدالتوں میں ناکافی حفاظتی انتظامات کے خلاف دائر درخواست میں پراسیکیوٹر جنرل، پنجاب بار اور پاکستان بار کونسلز کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ عدالتی احاطہ جات میں ناقص سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق ہے اور صرف لاہور کی عدالتوں میں حال ہی میں چھ واقعات رونما ہوئے جن میں 10 سے زائد افراد مارے گئے، جو زیرحراست تھے یا عدالتوں میں پیشی کےلئے آئے تھے۔ وکلاءپر حملوںکے نتیجہ میں بھی دو وکلاءجاں بحق ہوئے اور تیسرے واقعہ میں وکیل کی زندگی معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔ فاضل بنچ نے یہ ریمارکس کاشف پاشا ایڈووکیٹ کی درخواست کی سماعت کے دوران دیئے۔ خصوصی ڈویژن بنچ فاضل چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور مسٹر جسٹس شیخ نجم الحسن پر مشتمل ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ عدالتیں مظلوموں کےلئے پناہ گاہیں ہیںاور یہ مقام لوگوں کو انصاف کی فراہمی کی وجہ سے ہے۔ اگر عدالتوں کا ماحول ایسے سنگین جرائم سے آلودہ ہوتو یہ لوگوں کو تخفظ فراہم کرنے سے قاصر رہیں گی۔ صوبہ بھر میں امن وامان کے حوالے سے ایسے دلخراش واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے عدالتی نظام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ فاضل عدالت نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پولیس حکام نے ایسے سنگین واقعات کا نوٹس تو لیا ہے لیکن ایسے گھناﺅنے جرائم کی تحقیقات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ اسی طرح کے سانحات گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گجرات، قصور اور سرگودھا میں بھی رونما ہوئے ہیں۔ لیکن پولیس ان واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور پاکستان و پنجاب بار کونسلز کو یکم اگست کےلئے نوٹس جاری کئے۔
بار کونسلز/ نوٹس