صدارتی الیکشن، پیپلزپارٹی کے بائیکاٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا: آئینی ماہرین

لاہور(شہزادہ خالد) سندھ اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی پیپلز پارٹی کی جانب سے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کے اعلان پر نئے آئندہ صدر کی قانونی حیثیت کے بارے میں آئینی و قانونی ماہرین نے نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر اسرار الحق میاں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پی پی کی اکثریت ضرور ہے لیکن وہ الیکٹورل کالج کا ایک پورشن ہے، وہ ایک پارٹی کی انفرادی حیثیت میں بائیکاٹ کر رہی ہے سندھ اسمبلی بائیکاٹ نہیں کر رہی اس لئے پیپلز پارٹی کے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر ظفرالحق کی پٹیشن میں پیپلز پارٹی کو بھی بلا لیتی تو اچھا ہوتا۔ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری جاوید اقبال راجہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے اگر پوری اسمبلی بائیکاٹ کرتی ہے تو صدر کا انتخاب کرنا آئین کی خلاف ورزی ہوگا لیکن صرف پی پی کے بائیکاٹ کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر عابد ساقی نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے اسکے بائیکاٹ کرنے کا مطلب ہے ایک صوبے نے صدر کو ووٹ نہیں دیا اس طرح صدر کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی کے بائیکاٹ کی وجہ یہ ہے کہ انہیں تمام صوبوں میں الیکشن کیمپین کا وقت نہیں دیا گیا اور جانبداری سے کام لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور لاہور بار کی صدارت کے امیدوار چودھری ولایت نے پی پی کے بائیکاٹ کے حوالے سے کہا کہ پی پی کو بائیکاٹ نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن سپریم کورٹ نے راجہ ظفرالحق کی رٹ پٹیشن پر پیپلز پارٹی کا مﺅقف سنے بغیر فیصلہ دیا اس لئے پی پی نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ کسی فریق کو سنے بغیر فیصلہ دینا خلاف قانون ہے۔ سید رئیس الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پی پی کے بائیکاٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پی پی نے خود بھی مشرف دور میں بھی بائیکاٹ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کا ٹارگٹ صدر نہیں عدلیہ ہے۔ سینئر وکیل عارف ملہی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جب زرداری خود صدر بنے تو اس وقت بھی کئی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا اور ووٹ نہیں ڈالا تھا لیکن زرداری اپنے مدت پوری کر رہے ہیں۔ مشرف کے صدر بننے کے وقت بھی بائیکاٹ کیا گیا لیکن صدارتی انتخاب پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب پی پی کے بائیکاٹ سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کے صدر مشفق خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ پی پی کی طرف سے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ بلا جواز ہے۔ بائیکاٹ سے صدارتی انتخابات کی آئینی اور قانونی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔