گرمی بڑھ گئی‘ ایک شخص جاں بحق‘ لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے جاری‘ کھرڑیانوالہ میں گیس بندش پر فیکٹری پر دھاوا لاڑکانہ میں تصادم‘ 4 افراد زخمی

لاہور+ اسلام آباد+ فیصل آباد (نیوز رپورٹر+ سٹی رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک کے میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ گرمی کے باعث ایک معمر شخص جاں بحق اور 3بیہوش ہو گئے، طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف گذشتہ روز بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور شہروں اور دیہات میں 10سے 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ بجلی کا شارٹ فال 4ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گیا۔ لاڑکانہ میں مظاہرین نے سیپکو آفس پر دھاوا بول دیا اور توڑپھوڑ کی۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جبکہ تصادم میں رینجرز اہلکار سمیت 4افراد زخمی ہو گئے۔ کھرڑیانوالہ میں گیس کی بندش کیخلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایک مقامی ٹیکسٹائل ملز پر دھاوا بول دیا اور پتھرائو کیا، مشتعل مظاہرین نے تشدد کرکے ایک اہلکار کو زخمی کر دیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نوازشریف نے ہدایت کی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم رکھا جائیگزشتہ روز  اسلام آباد میں بجلی کی صورتحال کے بارے میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کی چوری قابل قبول نہیں ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کمپنیاں بقایا جات کی وصولی کے لئے اپنی مہم تیز کریں۔ اس موقع پر نوازشریف کو بجلی کی طلب ورسد کی مجموعی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پانی اور بجلی کے وزیر خواجہ آصف اور وزیر مملکت برائے پانی وبجلی عابد شیر علی نے اجلاس میں شرکت کی۔ علاوہ ازیں گذشتہ روز سورج نے آگ برسانا شروع کر دی۔ شدید گرمی کے باعث دن کے اوقات میں سڑکوں پر آمدورفت میں بھی نمایاں کمی واقع ہو گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے اگلے دو سے تین روز تک ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ گذشتہ روز سب سے زیادہ گرمی چھور میں پڑی جہاں درجہ حرارت 46سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہید بے نظیر آباد، موہنجو دڑو، مٹھی، لسبیلا اور سکھر میں درجہ حرارت 45سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی درجہ حرارت 40سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ علاوہ ازیں بجلی کی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ ہو گیا جس سے شارٹ فال بڑھ کر ساڑھے چار ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گیا۔ شارٹ فال میں اضافہ کے باعث لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ کر دیا گیا۔ گزشتہ روز شہروں میں  بارہ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کی گئی ۔ بدترین لوڈ شیڈنگ کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہونے لگے۔ کاٹیج انڈسٹری مکمل ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ جس سے لاکھوں افراد کا روز گار بند ہو گیا ۔ دیگر چھوٹے کاروبار بھی متاثر ہونے لگے ۔ گزشتہ روز شام کے بعد لیسکو سمیت تمام ڈسکوز نے لوڈ بڑھنے پر اپنے درجنوں فیڈرز بند کئے جس سے ان علاقوں میں دو دو گھنٹے تک بجلی کی بندش رہی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق کئی کئی گھنٹے کی غیراعلانیہ بدترین لوڈشیڈنگ سے گھریلو اور کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ شہری علاقوں میں 12سے 14جبکہ دیہی علاقوں میں 14سے 16گھنٹے کی بدترین لوڈشیڈنگ نے نظام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ کر 14سے 16گھنٹے تک چلا گیا ہے ہر دو، دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کو پریشان کر دیا، پرانا شہر، ہائوسنگ کالونی، پریس کلب کے باہر لوگوں نے لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ مین بازار میں 2خواتین اور غلہ منڈی میں ایک پلے دار گرمی کی وجہ سے بیہوش ہو گیا۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16جبکہ دیہات میں 18گھنٹے سے بھی تجاوز کر جانے کے باعث کاروبار زندگی بُری طرح مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ صرف 15تا 20منٹ بجلی آنے کے بعد مسلسل 3-3گھنٹے بجلی بند رہنا معمول بن گیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق حافظ آباد میں شدید گرمی میں لُو لگنے سے 60سالہ معمر شخص عبدالقیوم ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ علاوہ ازیں فیصل آباد میں گیس کی بندش اور پریشر کم ہونے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مقامی ٹیکسٹائل فیکٹری پر دھاوا بول دیا اور پتھرائو کیا اور ٹائر جلاکر 10گھنٹے تک کھرڑیانوالہ جڑانوالہ روڈ کو بلاک رکھا، مشتعل مظاہرین نے تشدد کرکے ایک اہلکار کو زخمی کر دیا۔ خواتین نے سڑک پر کئی گھنٹے تک دھرنا بھی دیا اور سینہ کوبی کی۔ لاڑکانہ  میں  بجلی  کی  بندش کے خلاف عوام  سڑکوں   پر نکل  آئے  اور سیپکو آفس میں توڑ پھوڑ  کی  جس  پر پولیس نے لاٹھی  چارج کیا  اس دوران  پولیس نے متعدد مظاہرین  کو  گرفتار کر  لیا  ہے۔ اس دوران  مظاہرین  اور  پولیس  کے درمیان  جھڑپوں میں  رینجرز  اہلکار  سمیت 4افراد زخمی ہو  گئے۔ مشتعل افراد نے سپیکو کی 2گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے، عملہ تالے لگاکر فرار ہو گیا۔ لاڑکانہ کے نظر محلہ میں سیپکو نے واجبات کی عدم ادائیگی پر چھ فیڈرز کی بجلی منقطع کردی، بجلی کی عدم فراہمی پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے، بجلی کی بندش کے خلاف رتو ڈیرو شہر میں مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کی۔ شہریوں نے انڈس ہائی وے پر بائی پاس کے مقام پر دھرنا دیکر ٹریفک معطل کر دی۔