سندھ میں پابندیوں کیخلاف فلور ملز کا آج سے ملک گیر علامتی ہڑتال کا اعلان

لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی بے جا پابندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر ملک بھر کی فلور ملز آج (منگل) سے ایک بجے دن سے چار بجے دن تک علامتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات پر غور نہ کیا گیا تو چاروں صوبائی دفاتر میں اجلاس بلاکر آئندہ پیر سے ملک بھر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی۔ یہ اعلان گزشتہ روز پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے اجلاس میںکیا گیا جس کی صدارت پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں محمود حسن نے کی۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر ناجائز پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اندرونِ سندھ سے کراچی آنے والے گندم اور سندھ کے راستے پنجاب سے بلوچستان جانے والے آٹے اور گندم کے ٹرکوں کو روک کر ان سے ناجائز بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔ ملک کے آئین کے تحت ملک میں آزادانہ کاروبار کی اجازت ہے ایسی صورت میں سندھ حکومت کی جانب سے غیر قانونی اور غیر آئینی پابندیاں بلا جواز ہیں۔ وفاقی حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 1200روپے فی من مقرر کی لیکن سندھ حکومت نے چند بیوپاریوں اور گندم کے ڈیلر حضرات کو خوش کرنے کیلئے گندم کی قیمت بڑھاکر 1250روپے فی من کردی جو کہ صریحاً بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ افغانستان پاکستان کی گندم کی مصنوعات کی ایک بہت بڑی اور پرانی مارکیٹ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغانستان کو گندم کی مصنوعات پاکستانی کرنسی میں کرنے کی اجازت دی جائے۔این این آئی کے مطابق کراچی میں فلور ملزکی جانب  سے ہڑتال ساتویں روز میں داخل ہوگئی ہے ۔ہول سیلرز کی جانب سے 50کلو آٹے کی قیمت میں 360سے 500روپے کا اضافہ کردیا گیا ۔ذرائع کے مطابق سندھ فلور ملز کی جانب سے محکمہ خوراک سندھ اور محکمہ ایکسائز کی جانب سے مبینہ رشوت لینے کے خلاف فلور ملز کی جانب سے ہڑتال تاحال جاری ہے جس کے بعد کراچی میں مختلف علاقوں میں چکی کے آٹے کی قیمت میں اضافے کے ساتھ قلت کا بھی امکان پیدا ہوگیا ہے۔