انتظامیہ اور ٹھیکداروں کی ملی بھگت‘ ایل ٹی سی ملازمین کا استحصال

لاہور (شہزادہ خالد) ایل ٹی سی انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے ایل ٹی سی کے ملازمین کا استحصال جاری ہے۔ اندرون شہر اور انٹر سٹی چلنے والی بسوں کے ڈرائیور، کنڈیکٹر، چیکر ودیگر ملازمین سے 16-16 گھنٹے کام لیا جا رہا ہے جبکہ ایک کنڈیکٹر 16 گھنٹے روزانہ کام کر کے 14 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہا ہے جس میں سے دو ہزار روپے ماہانہ سکیورٹی کے نام پر کاٹ لیے جاتے ہیں۔ میٹرو بس کا ڈرائیور حضرات کا پہلا بیچ 26 ہزار ماہانہ اور دوسرا بیچ 23 ہزار روپے ماہانہ فی کس تنخواہ وصول کر رہا ہے۔ ایل ٹی سی کے ایم ڈی کی ماہانہ تنخواہ اڑھائی لاکھ کے قریب جبکہ میٹرو کے ایم ڈی ماہانہ 3 لاکھ 57 ہزار روپے تنخواہ لے رہے ہیں۔ ٹی اے ڈی اے ودیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔ دوسری طرف چھوٹے ملازمین جن کو ماہانہ تنخواہ کے علاوہ کوئی مراعات نہیں ملتی وہ اپنی تنخواہ سے بجلی کا ماہانہ بل بھی ادا کرنے کے قابل نہیں۔ میٹرو کے جی ایم آپریشن 3 لاکھ، جی ایم فنانس ایک لاکھ 75 ہزار، ٹیکنیکل ایڈوائزر اڑھائی لاکھ منیجر آپریشن ٹیکنیکل ایک لاکھ 80 ہزار، منیجر آپریشن پلاننگ ایک لاکھ 80 ہزار، منیجر آئی ٹی ایک لاکھ پچھتر ہزار، آئی ٹی ایکسپرٹ ایک لاکھ پچیس ہزار اور فنانس سپیشلسٹ ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ پنجاب میٹرو بس اتھارٹی نے 30 جون 2013ء تک تقریباً 859.9 ملین روپے ملازمین کی تنخواہوں ودیگر مد میں خرچ کیے اور 308.3 ملین روپے کی آمدن ہوئی۔ پنجاب حکومت نے سبسڈی کی مد میں 551.6 ملین روپے ادا کیے۔ جنوری تا جون 2013ء تنخواہوں کی مد میں 12.9 ملین روپے خرچ کیے گئے۔ ایل ٹی سی بس کے ایک ڈرائیور نے ’’نوائے وقت‘‘ کو بتایا کہ میں روزانہ 12 گھنٹے سے 16گھنٹے کام کرتا ہوں اور ماہانہ تنخواہ 12 ہزار روپے وصول کر رہا ہوں۔