لوڈشیڈنگ 19 گھنٹے سے بڑھ گئی‘ کئی شہروں میں مظاہرے‘ بل نذر آتش

لاہور + اسلام آباد + نئی دہلی (کامرس رپورٹر+ نامہ نگاران + نیوز ایجنسیاں) ملک بھر میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 19 گھنٹے تک ہو گیا جبکہ بجلی کا شارٹ فال 6980 میگاواٹ تک پہنچ گیا، بدترین لوڈشیڈنگ سے شہری پریشان رہے اور ان کو شدید مشکلات کا سامنا رہا اور کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور بل نذر آتش کردیئے گئے۔ ادھر بھارت میں گرمی کی شدید لہر برقرار رہی اور گرمی سے ہلاکتوں کی تعداد 1200 ہوگئی، مرنے والوں میں زیادہ تر بے گھر مزدور اور بوڑھے افراد شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گرمی کی شدت میں اضافے سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہو گیا، کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گئے، کئی علاقوں میں پانی کی بھی قلت رہی۔ شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ 12 سے 14 گھنٹے تک پہنچ گئی جبکہ دیہی علاقوں میں دورانیہ 18 سے 19 گھنٹے تک پہنچ گیا۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے اورانہیں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ لوڈشیڈنگ کیخلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین نے بجلی کے بل نذر آتش کر دئیے۔ حکام کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور میں ٹرانسفارمر کی خرابی اور قلت کے باعث بند روڈ، محمود بوٹی سمیت کئی علاقوں میں بجلی مسلسل 10گھنٹے بند ہو گئی۔ شہری حکومت اور لیسکو کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کا ریلیف گھریلو صارفین کے بجائے صنعتوں کو دے دیا گیا۔ انڈسٹریز کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی شروع کر دی گئی۔ بار بار لوڈشیڈنگ سے بیشتر علاقوں میں پانی کی بھی شدید قلت رہی۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں ایف اے کے ہونیوالے امتحان میں گرمی کی وجہ سے طالبہ بے ہوش ہو گئی اور بے ہوشی کی حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق ایف اے ایف ایس سی پارٹ ون کے پرچہ کے دوران لوڈشیڈنگ سے گرمی کی شدت سے پرچہ دیتے ہوئے درجنوں طلبا و طالبات بے ہوش ہو گئیں جبکہ لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں کمالیہ، ساہیوال اور دیگر شہروں میں بھی لوگ سراپا احتجاج بنے رہے۔ علاوہ ازیں بھارتی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ریاست آندھرا پردیش سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے اور اس ریاست میں اب تک900 کے لگ بھگ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ پڑوسی ریاست تیلنگانا میں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک گیا جہاں اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس طرح مغربی بنگال میں 13 اور اوڑیسہ میں گیارہ افراد شدید گرمی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر بے گھر، مزدور اور بوڑھے افراد شامل ہیں۔نامہ نگار کے مطابق خیرپور میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور لوگوں نے گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا۔ علاوہ ازیں لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔