قانون ہاتھ میں لینے کا کلچر ختم ہونا چاہئے: سردار یوسف

لاہور (خصوصی نامہ نگار) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا کلچر ختم ہونا چاہئے۔ قانون کے محافظ ہی قانون شکن بن رہے ہیں، کوئی مذہب نفرت اور حسد کرنا نہیں سکھاتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس 2015ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگریہ کلچر پڑھے لکھے لوگوں میں پیدا ہوگیا تو ان پڑھ افراد میں کیا حال ہوگا۔ اسماعیلی کمیونٹی تعلیم یافتہ اور مہذب ہے اگر انہیں کوئی گالی بھی دے تو یہ لوگ ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔ دکھ کی بات ہے انہیں بھی نشانہ بنایا گیا۔پیر محمد حسنات شاہ نے کہا کہ سازشوں کے باوجو د دشمن ہمارے اندر تفریق پیدا کرنے کی سازش میں نہ پہلے کامیاب ہوا نہ ہو گا۔ طاہر خلیل سندھو نے کہا کہ دشمن کو پاک چین اکنا مک کو ریڈورپسند نہیں آرہا۔ اسفندیار بھنڈارا نے کہا کہ اس طرح کے آگاہی پروگرام دیہات میں منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر روحیافریدی نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ برداشت کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی محفوظ بنانے پر بھی زوردیں۔ پوری دنیا کو متحدکرنے کا وقت آگیا۔