بلاول بھٹو کی پنجاب میں بااختیار واپسی ہوگی، مشاورت سے پارٹی میں تبدیلیاں کرینگے

 بلاول بھٹو کی پنجاب میں بااختیار واپسی ہوگی، مشاورت سے پارٹی میں تبدیلیاں کرینگے

لاہور (سید شعیب الدین سے) سابق صدر زرداری نے اپنی جماعت کو بکھرنے اور خاندان میں پڑنے والی دراڑوں کو پُر کرنے کیلئے کاوشیں شروع کردیں۔ سینئر پارٹی رہنمائوں سے ملاقات کے بعد دبئی میں اپنے بچوں سے ان کی پھوپھی فریال تالپور سمیت ملاقات ان ہی کوششوں کا حصہ ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق زرداری نے دبئی میں بچوں سے اہم ملاقات سے پہلے بااعتماد ساتھیوں کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ اور غیررسمی اجلاس کیا جس میں بلاول بھٹو کی واپسی کے بعد کے منظرنامے، بلدیاتی انتخابات کی حکمت عملی، ممکنہ انتخابی اتحاد سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں سینئر رہنمائوں کی تعداد کم تھی یا دانستہ غیر حاضر رہی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پارٹی قیادت کے سامنے چاروں صوبوں خصوصاً پنجاب میں صوبائی قیادت کی تبدیلی کا اہم مسئلہ زیر غور ہے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے دونوں صدور منظور احمد وٹو اور مخدوم احمد محمود کا تعلق مسلم لیگ سے رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ورکرز پیپلز پارٹی سینٹرل اور جنوبی پنجاب پر مسلم لیگ کے قبضے پر برملا تکلیف کا اظہار کرتے ہیں پنجاب کی ’’قیادت‘‘ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بلوچستان، سندھ اور خیبر پی کے میں بھی صوبائی قیادت کی تبدیلی زیر غور ہے۔ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹوں کے  اجراء کے حوالے سے 14 رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ کمیٹی ٹکٹوں کے  اجراء کیلئے معیار مقرر کرے گی اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ پارٹی ٹکٹ جیالوں میں تقسیم ہو نہ کہ فصلی بٹیرے یہ ٹکٹیں لے اڑیں۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صوبائی سطح پر ورکرز کنونشن کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ اس موقع پر ناراض بلاول کو مناکر واپس لانے پر بھی بات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق بلاول کو اپنی پھوپھی فریال تالپور کی پارٹی امور میں مداخلت پر سخت اعتراض ہے اور ان کی خواہش ہے کہ فریال تالپور والا کردار پارٹی کے سینئر رہنما کے پاس ہو۔ زرداری نے پارٹی میں تبدیلیوں سے پہلے اپنے بچوں سے مفصل ملاقات کرلی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد پارٹی ورکرز کے سامنے ’’خاندان‘‘ میں ’’سب اچھا‘‘ ہے کا تاثر دینا بھی تھا۔ زرداری کیلئے ایک اہم مسئلہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے اندر گروپنگ ہے جس کے خاتمے کے بغیر پارٹی کے آگے جانے کی بجائے مزید پیچھے جانے کا خدشہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی بھی زرداری کیلئے ’’خطرے کی جھنڈی‘‘ ہے کیونکہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں واپسی کی تیاریوں سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی واحد زندہ نشانی یعنی اپنی خالہ صنم بھٹو سے ایک سے زائد ملاقاتیں کی ہیں۔ صنم بھٹو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صنم جو پہلے پیپلز پارٹی ’’سنبھالنے‘‘ کے بارے میں بات کرنے یا سننے کو تیار نہیں ہوتی تھیں، اب اپنی شرائط پر آمادگی ظاہر کردیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو خالہ کو ساتھ کھڑا کرنے میں کس حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔
اسلام آباد (شفاقت علی / دی نیشن رپورٹ) سابق صدر آصف زرداری نے بلاول کی پیپلز پارٹی پنجاب میں قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے بات کو تسلیم کرلیا ہے۔ دی نیشن کے ذرائع کے مطابق دونوں باپ بیٹے میں ہونے والی مفاہمت کے مطابق بلاول پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنمائوں اور کارکنوں سے مشاورت کریں گے جس کے بعد اس حوالے سے فیصلے کئے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع نے گزشتہ دنوں دبئی میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے بتایا ہے کہ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ پارٹی کے جیالوں کو ذمہ داریاں دینا بہت ضروری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول پنجاب میں پارٹی کارکنوں کو اوپر لانے کے ساتھ خیبر پی کے میں بھی کارکنوں کو پروموٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے نیشن سے بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کا کہ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا، پارٹی میں مکمل مشاورت سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول کی ملاقات صرف ایک باپ بیٹے کی ملاقات تھی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول اگلے ماہ آرہے ہیں اور ان سے تمام معاملات پر بات ہوگی پارٹی نے ہمیشہ ورکرز کو اہمیت اور ذمہ داریاں دی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زرداری اور بلاول میں اختلافات کی خبریں چل رہی ہیں مگر پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر اس کی تردید کرتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلاول پارٹی کی ذمہ داری کے ساتھ تمام اختیارات بھی چاہتے ہیں اور پیر کے روز ہونے والی ملاقات اس سلسلے کی کڑی تھی۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کی طرف سے تبدیلیوں کا فیصلہ کارکنوں کو متوجہ کرنے اور نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری نے نہیں پنجاب میں کھل کر کام کرنے دینے پر اتفاق کیا ہے۔