پنجاب قومی اسمبلی کے 3، صوبائی کے6 ارکان ”آزاد“ رہیں گے

لاہور (خبرنگار) پنجاب سے کامیاب ہونیوالے قومی اسمبلی کے 16 اور صوبائی اسمبلی کے 41 آزاد ارکان میں سے بالترتیب 3 اور 6 آزاد امیدواروں نے کسی پارٹی میں شامل ہونے کی بجائے آزاد رہنے کو ترجیح دی جن میں پی پی 6 پنڈی کی نشست سے کامیاب ہونیوالے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما چودھری نثار بھی شامل ہیں جو پی پی 6 کی نشست پر ”گائے“ کے نشان پر آزاد لڑے مگر حیران کن طور پر اپنی ”آزادی“ ختم کرنا پسند نہ کی اور مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اقرار نامہ الیکشن کمشن کو نہیں بھجوایا، چودھری نثار نے ایک نشست پر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دوسری آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تھا۔ قومی اسمبلی کیلئے کامیاب 16 آزاد امیدواروں میں سے اٹک کی نشست این اے 59 سے کامیاب ہونیوالے زین الٰہی اور این اے 177 مظفر گڑھ 2 اور این اے 178 مظفر گڑھ 3 سے بیک وقت کامیاب ہونیوالے جمشید احمد دستی نے کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ این اے 103 حافظ آباد سے کامیاب ہونیوالے لیاقت عباسی کی نشست پر دوبارہ گنتی کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے لئے کامیاب ہونیوالے 41 آزاد امیدواروں میں سے 6 نے آزاد رہنے کو ترجیح دی ہے جن میں پنڈی سے چودھری نثار، بھکر سے نجیب اللہ خان، فیصل آباد سے احسان ریاض فتیانہ (سابق وزیر ریاض فتیانہ کے صاحبزادے) شیخوپورہ سے علی سلمان (سابق چیف سیکرٹری پنجاب اور سابق چیئرمین ایف بی آر سلمان صدیق کے صاحبزادے)، خانیوال سے نوابزادہ عبدالرزاق خان نیازی اور راجن پور سے سردار نصر اللہ دریشک شامل ہیں جبکہ دیگر 33 امیدوار مسلم لیگ( ن )میں شامل ہوئے ہیں۔ پی پی 170 ننکانہ صاح پر کامیاب ہونیوالے طارق محمود کے انتخابی نتائج پر حکم امتناعی آ چکا ہے۔ لودھراں سے کامیاب ہونیوالے عامر اقبال شاہ کی نشست پر دوبارہ گنتی کے احکامات ہو چکے ہیں۔
آزاد ارکان