لوڈ شیڈنگ کے باعث خسرہ ویکسین م¶ثر نہیں رہی اس لئے اموات ہوئیں: ینگ ڈاکٹرز

لاہور (نیوز رپورٹر) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر ملک جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نگران گورنمنٹ کو ہسپتالوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ جنرل سیکرٹری عثمان مان، ڈاکٹر شبیر، ڈاکٹر خرم شہزاد، ڈاکٹر فرحان ساہی اور دیگر شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ خسرہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کے ذمہ دار محکمہ صحت کے اعلی افسران ہیں جنہیں ماہر امراض بچگان نے متنبہ کیا تھا کہ خسرہ کی وبا پھیلنے والی ہے مگر بیورو کریسی نے ان کی ایک نہ سنی۔ لاہور میں خسرہ کے مہم کے بعد بھی خسرہ ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اس کی وجہ لوڈ شیڈنگ ہے جس کی وجہ سے خسرہ ویکسئین کی سٹوریج نہیں ہو سکی اور خسرہ کی ویکسئین نے اپنی افادیت کھو دی تھی اب بچوں کی ہلاکتوں کی ےہی وجہ ہے کہ ویکسین نے بچوں پر اثر نہیں کیا ہے ہماری آنے والی گورنمنٹ سے اپیل ہے کہ وہ فی الفور اقتدار سنبھالتے ہی خسرہ پر ایمرجنسی نافذ کر دیں تاکہ معصوم بچوں کی جان بچائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوڈ شیڈنگ ہسپتالوں میں مریضوں اور ڈاکٹروں کا برا حال کر دیا ہے ہسپتالوں میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ایسے آپریشن ملتوی ہو رہے ہیں جس کے بعد مریضوں کی جان بچانا مشکل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مریض بیماری سے مر جاتا ہے وہ گرمی سے مر جاتا ہے اس لئے ہم نگران حکومت کو 72 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ ہسپتالوں سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کریں ورنہ ہم مریضوں کے ساتھ ملکر سخت احتجاج شروع کریں گے جبکہ محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ محکمہ صحت پنجاب کے پاس ویکسین سٹور کرنے کے لئے عالمی معیار کا کولڈ چین سسٹم موجود ہے جو لوڈ شیڈنگ کے باوجھود 18 گھنٹے تک مقررہ درجہ حرارت کو برقرار رکھتا ہے اور محکمہ صحت کے کولڈ چین سسٹم میں موجھود خسرہ کی کوئی ویکسین نہ تو خراب ہوئی اور نہ ہی غیر م¶ثر ہوئی اور نہ ہی اس وجہ سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ لاہور میں انسداد خسرہ کی مہم 29 اپریل سے 5 مئی تک چلائی گئی تھی، موجودہ ہلاکتوں کا خسرہ کی ویکسین سے کوئی تعلق نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اگر بچے کو خسرہ کا مرض لاحق ہو جائے تو اسے ویکسین لگانے کی ضرورت نہیں رہتی، مریض میں قدرتی طور پر ایمونٹی پیدا ہو جاتی ہے۔
ینگ ڈاکٹرز