خسرہ سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں محکمہ صحت کے افسران پالیسیاں بنانے میں لگے ہیں : لاہور ہائیکورٹ

خسرہ سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں محکمہ صحت کے افسران پالیسیاں بنانے میں لگے ہیں : لاہور ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے خسرے کی وبا کے خلاف کیس کی سماعت میں قراردیا ہے کہ محکمہ صحت خسرے کی وبا کو پھیلنے سے روکنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکا ہے ابھی تک اموات کاسلسلہ نہیں رک رہا۔بظاہر محکمہ صحت نے درست عملی اقدامات نہیں کئے معصوم بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں۔ آنکھیں بند کرکے کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔فاضل عدالت نے محکمہ صحت پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ خسرے کی وبا کوختم کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے عدالت اس کی تہہ تک جائے گی کہ آخر خسرے کی وبا کو روکنے کے لئے جواقدامات کئے گئے وہ کس قدر موثر تھے۔ محکمہ صحت بچوں کی اموات کی گنتی کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کرے جس سے اس وبا کاخاتمہ ممکن ہو۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ عدالتی احکامات کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں خسرہ کے مرض میںمبتلا بچوں کا علاج معالجہ ٹھیک نہیں ہورہااور ویکسین کی کمی کے باعث بچوں کی اموات کا سلسلہ تاحال جارہی ہے۔ عدالت نے قرار دیاکہ پنجاب میں انسداد خسرہ مہم ویکسین شروع ہونے کے باوجود بچوں کی اموات پر قابو کیوں نہیں پایا گیا؟روزانہ انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ۔وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔جب تک اس بارے وجوہات کا پتہ نہیں چلے گا کسی کو نہیں چھوڑا جائیگا ۔فاضل عدالت نے ڈی جی ہیلتھ سمیت دیگر افسران کو عدالت میں ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدائت کرتے ہوئے مزید سماعت29مئی تک ملتوی کر دی۔ثناءنیوز کے مطابق جسٹس خالد محمود خان نے ریمارکس دئیے کہ خسرہ سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں اور محکمہ صحت کے افسران پالیسیاں بنا رہے ہیں ۔ عدالت چاہتی ہے خسرہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ داروں کا تعین کرے۔
خسرہ