پنجاب اسمبلی: اجلاس میں تاخیر، وقت کم ہونے کے باعث ایجنڈے پر بحث تیسری بار ملتوی

لاہور(خصوصی رپورٹر/ خصوصی نامہ نگار/ کامرس رپورٹر/ سپورٹس رپورٹر) دو روز وقفہ کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس ساڑھے تین گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہوا جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی شکایات سمیت خوراک اور زراعت پر ایجنڈے میں شامل عام بحث کم وقت ہونے کی بنا پر تیسری مرتبہ ملتوی کر دی گئی۔ اجلاس میں عدلیہ کی کارکردگی اور جوڈیشل نظام کی تبدیلی کے بارے میں اٹھائے گئے سوال پر حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کوئی شکایت موصول ہوئی تو اس پر غور کیا جائے گا۔ اپوزیشن رکن ڈاکٹر وسیم اختر نے سوال اٹھایا کہ حکومت سول ججوں کو گاڑیاں دینے جارہی ہے جبکہ سول عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے ، اعلیٰ عدلیہ میں بھی جوڈیشل افسروں ( ججوں ) کو 8، 8 ،9، 9 لاکھ روپے تنخواہیں دی جارہی ہیں لیکن مقدمات کے فیصلے 15,15 سال تک نہیں ہو پاتے اور جوڈیشل سسٹم انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوچکا ہے کیا حکومت اس نظام میں تبدیلی کا کوئی ارداہ رکھتی ہے تو قانون و پارلیمانی امور کے پارلیمانی سیکرٹری نذر گوندل نے کہا کہ عدالتیں صحیح طور پر کام کر رہی ہیں، تاہم اگر کوئی شکایت آئیگی تو اس پر غور کیا جائیگا۔ اپوزیشن رکن ڈاکٹر وسیم اختر نے مصطفی رمدے کو ایڈووکیٹ جنرل بنائے جانے کا سوال بھی اٹھایا تو پارلیمانی سیکرٹری نے جواب دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کا تقررآئین اور قانون کے تحت ایک خاص اہلیت کے مطابق کیا جاتا ہے اجلاس کے دوران حکومتی رکن شیخ علائوالدین نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی عمارت کی تعمیر مکمل نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا اور ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ اس عمارت کے بالکل ساتھ ہی رائٹرگلڈ کی بلڈنگ اور پلاٹ ہے جس میں اراکین کیلئے ہاسٹل بنایا جاسکتا ہے یا اسمبلی کے کسی بھی مقصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے تجویز پیش کی فوری طور پر ارکان کی ایک خصوصی کمیٹی بنا ئی جائے جو اس عمارت کا جائزہ لے تو سپیکر نے انہیں ہدایت کی کہ وہ پیر کے روز انکے چیمبر میں آکر بات کریں ۔