سی آئی اے کوتوالی نے ساہیوال کی بیوہ کو ڈکیتی کیس میں پھنسا کر قیدی بنا لیا

سی آئی اے کوتوالی نے ساہیوال کی بیوہ کو ڈکیتی کیس میں پھنسا کر قیدی بنا لیا

لاہور (مرزا رمضان بیگ+ وقت نیوز) سی آئی اے سٹی ڈویژن کوتوالی پولیس نے ساہیوال کی بیوہ خاتون کو ڈکیتی کیس میں پھنساکر 4 ماہ سے تھانے میں قیدی بنا رکھا ہے۔ غیرقانونی حراست کو چار ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا۔ بتایا گیا ہے کہ کوتوالی کے سب انسپکٹر ندیم شاہ نے چار ماہ قبل ڈکیتی کیس کی تفتیش کے دوران بیوہ خاتون صابرہ بی بی کو ساہیوال کے علاقے ڈیرہ گجراں تھانہ بیدی سے حراست میں لیا مگر گرفتاری نہ ڈالی۔ خاتون کو چار ماہ سے سی آئی اے کوتوالی کے ایک کمرہ میں ہی سلایا جاتا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک نے ہر سی آئی اے کے سنٹر کے باہر وارننگ تحریر کی ہوئی ہے کہ کسی بوڑھے شخص، خاتون اور بچے کو سی آئی اے سنٹر میں نہیں لایا جائے گا مگر سب انسپکٹر ندیم شاہ نے حکام کا انتباہ ہوا میں اڑا دیا۔ واضح رہے سپریم کورٹ اور آئی جی پولیس پنجاب کے احکامات کے مطابق کسی خاتون کو کسی بھی صورت غروب ہونے کے بعد سی آئی اے سنٹر یا تھانہ میں نہیں رکھا جا سکتا بلکہ اسے لیڈیز پولیس سٹیشن کی حوالات یا سنٹرل جیل کوٹ لکھپت بھیجنا لازمی ہے جبکہ بیوہ خاتون صابوہ کے ورثاء اسکی رہائی کیلئے دربدر ہو کر رہ گئے ہیں۔