مفاہمت کا راستہ اب بھی موجود ہے‘ زرداری ججوں کو بحال کر دیں : نوازشریف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک + نیٹ نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے کہا ہے کہ مفاہمت کا راستہ اب بھی موجود ہے‘ صدر آصف علی زرداری ججوں کو بحال کر دیں تو ان سے مفاہمت ہو سکتی ہے‘ صدر زرداری جج بحال کر د یں تو ان کے راستے میں نہیں آؤں گا۔ وزیراعظم سے رابطے کا کوئی دروازہ بند نہیں ہوا۔ نجی ٹی وی سے خصوصی انٹرویو میں نوازشریف نے کہا کہ جج این آر او کے باعث بحال نہیں ہو رہے۔ آنے والے دنوں میں ملک میں جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے‘ اس سے جمہوری انقلاب آ سکتا ہے اور اسے ضرور آنا چاہئے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں۔ زرداری بینظیر بھٹو کے وارث بنیں مشرف کے نہیں۔ حکومت ذمہ داری کا ثبوت دے تو تیسری قوت برسر اقتدار نہیں آ سکتی۔ صدر زرداری ملک کو مڈٹرم الیکشن کی جانب لے جا رہے ہیں۔ زرداری نے مجھے ہی نہیں پوری قوم کو دھوکہ دیا۔ عدلیہ کی آزادی تک ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ عدلیہ کو ہر قیمت پر بحال ہونا چاہئے‘ میری محترمہ بینظیر بھٹو سے اچھی انڈر سٹینڈنگ تھی‘ میری ان سے گفتگو رہتی تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آصف علی زرداری بینظیر بھٹو کے وارث بننے کی بجائے مشرف کے وارث کیوں بن رہے ہیں؟ دریں اثنا بی بی سی اردو سروس کے پروگرام میں اپنے انٹرویو میں نوازشریف نے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد سول نافرمانی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول نافرمانی کا اعلان میں نے کیا نہ کوئی ابھی اس کا فیصلہ ہوا‘ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ انتظامیہ پولیس کو غیر قانونی حکم نہیں ماننا چاہئے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی انتظامیہ اور پولیس سے کہا تھا کہ غیر قانونی اور غیر آئینی احکامات نہ مانیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ ملکی مفاد کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کو ترجیح دے رہے ہیں تو نوازشریف نے کہا کہ نہیں‘ ہم ملک کی فکر کے جذبے کے تحت یہ سب کچھ کر رہے ہیں‘ ملک کی فکر نہ ہوتی تو یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر ملکی مفاد کی فکر نہیں ہوتی تو پہلے ہی صدر آصف زرداری کی پیشکش مان لیتے کہ ہم ججز کے خلاف نہ بولیں تو ہمارے خلاف نااہلی کا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔ ایسی اطلاعات کے بارے میں کہ مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی خان مفاہمت کی کوششیں کر رہے ہیں‘ نوازشریف نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ مفاہمت کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو کیا وہ اسے قبول کریں گے‘ نوازشریف نے کہا کہ مفاہمت بھی کسی اصول یا نظریے کے تحت ہوتی ہے‘ ماضی میں کئی ایسے وعدے ہوئے جس سے لوگ مکر گئے‘ کوئی کیسے اعتبار کرے گا۔ جرمنی کے سفیر مائیکل کوچ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف سے رائے ونڈ جاتی عمرہ میں ملاقات کی۔ اس موقع پر خطے کی موجودہ صورتحال‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ اور دوطرفہ تعلقات امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے دہشت گردی کو امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ شریف برادران کی نااہلی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرمن سفیر نے کہا کہ ہم پاکستان میں مضبوط جمہوریت کے ساتھ استحکام بھی دیکھنا چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنا رول ادا کریں‘ کسی کو بھی سیاست سے دور کرنے کی سازش نہیں ہونی چاہئے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی طرف سے دی جانیوالی قربانیوں کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔نوازشریف نے کہا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی سے مذاکرات کو تیار ہیں