مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک کے 32 ارکان نے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا

لاہور (خبر نگار خصوصی) پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کے 32 ارکان نے میاں عطاء محمد مانیکا کی قیادت میں نوازشریف اور شہباز شریف سے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جمہوری سسٹم کے استحکام‘ جمہوری اداروں کی بقاء اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیں گے‘ انتظامی ہتھکنڈے‘ منتخب ارکان اور جمہوری سسٹم پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ نوازشریف نے ان سے کہا کہ اب ہماری جنگ ان عناصر سے ہے جو جمہوریت کو کمزور‘ جمہوری اداروں کو غیر مستحکم اور عوامی مینڈیٹ کے درپے ہیں۔ عطاء مانیکا نے کہا کہ ارکان اسمبلی گورنر راج کو جمہوریت کیخلاف سازش سمجھتے ہیں۔ منتخب ارکان اپنا وزن مسلم لیگ (ن) کے پلڑے میں ڈالیں گے۔ پنجاب میں گورنر راج پیپلز پارٹی کو الٹا پڑے گا۔ عطاء مانیکا نے کہا کہ مرکز میں چودھری شجاعت حسین سمیت کوئی پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں جانا چاہتا۔ ہم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو ووٹ کی ضرورت پڑی تو مکمل ساتھ دیں گے اور حمایت کریں گے۔ عطاء مانیکا کے پاس پیپلز پارٹی کو آنے کی جرأت نہیں ہو سکتی۔ شہباز شریف کو ہٹا کر پنجاب کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی گئی۔ میاں عطا مانیکا نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ 38 ارکان ہیں ان میں سے چھ بعض مسائل کی وجہ سے یہاں نہیں آ سکے‘ یہ تعداد 40 تک جا پہنچے گی۔ فارورڈ بلاک کے جن ارکان نے نوازشریف اور شہباز شریف سے ملاقات کی ان میں راولپنڈی سے شوکت بھٹی‘ اٹک سے ملک اعتبار خان‘ کوال سے ملک ظہور انور‘ سرگودھا سے ڈاکٹر مختار بھرتھ‘ پاکپتن سے میاں عطا مانیکا‘ کاشف چشتی‘ فیصل آباد سے محمد اجمل‘ جھنگ سے ثقلین سپرا‘ مجاہد محمود سرگانہ‘ سلطان سکندر بھروانہ‘ گوجرانوالہ سے خالد ورک‘ عرفان شبیر گجر‘ گجرات سے میاں طار محمود‘ لاہور سے صبا صادق‘ نارووال سے ڈاکٹر طاہر‘ کرنل شجاعت احمد خان‘ ملتان سے نغمانہ مشتاق لاگ‘ مہدی عباس خان‘ رانا اعجاز نون‘ اوکاڑہ سے ندیم عباس ربیرہ‘ قصور سے شیخ علاؤالدین‘ لودھراں سے رفیع الدین بخاری‘ خانیوال سے عامر حیات ہراج‘ ساہیوال سے حاجی بلال ڈھکو‘ چودھری ارشد‘ مظفر گڑھ سے ملک جاوید کامران کو ملک احمد یار ہنجرا‘ عمران قریشی‘ بہاولپور سے مخدوم افتخار گیلانی شامل ہیں۔ فارورڈ بلاک کے سربراہ عطا مانیکا کے مطابق ہمارے دیگر ارکان میں کچھ ملک سے باہر ہیں جبکہ بعض بیماری کے باعث نہیں پہنچ سکے البتہ اگلے دو روز میں ہماری یہ تعداد 40 تک پہنچے گی‘ ہم دوبارہ اکٹھے ہوں گے۔