”تجھ میں اے پنجاب اقبال و ظفر پیدا ہوئے“

تحریر : عبدالرشید عراقی۔۔۔۔
مولانا ظفر علی خان کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں، آپ یگانہ روزگار شخصیت کے مالک تھے، علم و عمل میں اپنی مثال آپ تھے، ان جیسا ادیب، شاعر، مقرر، صحافی اور بیباک سیاسی رہنما برصغیر پاک وہند میں پیدا نہیں ہوا۔ شعروسخن کا ایساعمدہ ذوق رکھتے تھے کہ ان پر ہمہ وقت اشعار کی آمد رہتی تھی۔ ان کا اپنا شعر ہے
حاسدان تیرہ و باطن کو جلانے کے لئے
تجھ میں اے پنجاب اقبال و ظفر پیدا ہوئے
 مولانا مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے ان کی زندگی عقیدہ توحید کا عملی نمونہ تھی۔ حق گوئی و بیباکی میں شاید ہی کوئی شخص ان کا ہمسر ہو۔ جس کسی نے بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کی مخالفت میں زبان کھولی یا قلم اٹھایا تو ان کا قلم شمشیر بے نیام ہو جاتا تھا۔
مولانا ظفر علی خان کی علمی، ادبی، صحافتی اور سیاسی خدمات کا برصغیر پاک وہند کے نامور اہل علم و ادب اور سیاسی اکابرین نے اعتراف رکھا ہے۔
جب علامہ اقبال کا 21 اپریل 1938ءکو لاہور میں انتقال ہوا تو مولانا آل انڈیا مسلم لیگ کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لئے کلکتہ گئے ہوئے تھے۔ اجلاس میں علامہ اقبال کی وفات کی خبر پہنچی تو اس وقت مولانا شوکت علی سے دعائے مغفرت کرائی۔
بلاشبہ انگریزی شناسوں کے لئے محمد علی جوہر کا کامریڈ اور مشرقیت نوازوں کے لئے ابوالکلام کا الہلال بڑی اہمیت کا حامل اخبار تھا لیکن عام مسلمانوں میں سماجی و سیاسی تربیت کا بیڑا صرف زمیندار نے اٹھا رکھا تھا۔ مولانا ظفر علی خان کی ذات سے جنہوں نے اس برعظیم میں پہلی دفعہ انگریزی استعماراور انگریزی اقتدار کے خلاف اس قدر شدت اور بے باکی سے آواز بلند کی کہ فرنگی کی ساری ہیبت خاک میں مل گئی۔
اگرچہ اردو صحافت میں بھی ان کی جگہ ممتاز اور پہلی صف میں ہے پھر بھی ان کی صحافت کی ساری قوت ان کی ادبی قابلیتوں کی شرمندہ احسان تھی۔ مولانا ظفر علی خان جہاں سرسید کی تعلیمی تحریک سے متاثر تھے وہاں جمال الدین افغانی کے سیاسی خیالات و عقائد سے بھی بے حد متاثر ہوئے۔ ان کے سامنے مسلمانوں کے گزشتہ ہزار سالہ دور حکومت کی تصویرتھی اور وہ چاہتے تھے کہ پھر مسلمان اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کر سکیں۔
مولانا ظفر علی خان فارسی، اردو اور انگریزی میں بے تکلف بولتے تھے۔ پنجابی مادری زبان تھی کتابوں کے مطالبے کا بہت شوق تھا۔ رفیقان کار کے قدر شناس تھے۔ حمید نظامی مرحوم فرماتے ہیں کہ مولانا ظفر علی خان اپنے دور کے عظیم صحافی ہیں افسوس کہ ان کی صحافت کے عین عالم شباب میں سیاست مولانا کو صحافت سے چھین کر لے گئی۔ یہ صحافت کا ایک ایسا نقصان تھا جس کی آج تک تلافی نہیں ہو سکی۔ ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں ظفر علی خان کو تحریکوں کی عمارت بنانے میں کمال حاصل ہے وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ہمیشہ راہ و منزل سے بے نیاز ہو کر چلتے ہیں۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں ”ظفر علی خان کے قلم میں مصطفیٰ کمال کی تلوار کا بانکپن ہے۔ انہوں نے مسلمانان ہند کو عموماً اور مسلمانانِ پنجاب کو خصوصاً جھجھوڑنے میں بڑے بڑے معرکے سر کئے ہیں۔ محمد علی جوہر لکھتے ہیں ”ظفر علی خان صحافی سے زیادہ ادیب ہیں ان کے کلام میں جو تلخی ہے وہ سیاست کی ہے جو چاشنی ہے وہ ادب کی ہے۔“
مولانا ظفر علی خان اپنے والد سراج الدین احمد کے سب سے بڑے فرزند تھے ان کی تعلیم و تربیت پر مولانا سراج الدین احمد کی خاص نظر تھی بطور خاص ان کے ضبط و نظم کا خیال رکھتے تھے۔ ان کو اپنے پھوپھا عبداللہ خان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ جو عربی کے بلند پایہ عالم تھے اور پٹیالہ کالج میں عربی کے پروفیسر تھے۔ بعدازاں وہ علی گڑھ چلے گئے جہاں بہترین اساتذہ کی صحبت سے فائدہ اٹھایا ان میں سے ایک مولانا شبلی مرحوم تھے۔ ان کے اخبار زمیندار میں قادیانی فتنہ کے خلاف مضامین شائع ہوتے رہتے تھے اور حکومت کسی نہ کسی بہانہ سے مولانا ظفر علی خان کو تنگ کرتی اور ضمانتیں ضبط کر لیتی لیکن مولانا کے پائے استقلال میں کبھی بھی لغزش نہ آئی۔
”زمیندار“ مسلسل اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے خم ٹھونک کر سامنے آ چکا تھا۔ 1932ءمیں اسی جرم کی وجہ سے پولیس پر تنقید کے بہانے ”زمیندار“ کی ضمانت دو ہزار روپیہ ضبط کر کے مزید چار ہزار روپے طلب کر لیا گیا ۔ پندرہ دن کی بندش کے بعد ”زمیندار“ ضمانت ادا کر کے 14 جنوری 1933ء کو پھر ان موجود ہوا جس پر مولانا نے اخبار میں یہ شعر لکھا
پندرہ دن بند رہ کر پھر کھلی میری زباں
پھر نواسنج فغاں ہو کے زمیندار آ گیا
آپ نے فرمایا اب وقت آ گیا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کو قادیانی فتنہ کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا جائے۔ چنانچہ اس کے لئے مولانا نے ایک مستقل تنظیم ”مجلس دعوت وارشاد“ کے قائم کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ چنانچہ اس کے قیام کے بعد اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں واقع جامع مسجد مبارک میں باقاعدہ جلسوں کا پروگام بنایا گیا جس میں ہر طبقہ و مسلک کے علمائے کرام کو دعوت دی گئی۔ چنانچہ مارچ 1933ءمیں دوسرے علماءکرام کے ساتھ مولانا ظفر علی خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے بعد مولانا ظفر علی خان کو عدالت میں پیش کیا گیا اور آپ نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
”میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ اس مقدمہ کا جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ عدالت کا وقت ضائع نہ ہو۔ البتہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرزائیوں کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچے گا البتہ ہم یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کو ایک بار نہیں ہزار بار دجال کہیں گے جس نے آنحضور کی ختم المرسلین میں اپنی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ دیا۔
عدالت میں جج نے جواب دیا
 میں قانون کا پابند ہوں، یہ ضمانت عارضی ہے دوران مقدمہ آپ کو حق حاصل ہے اسے مسترد کر دیں۔
مولانا نے مخصوص انداز میں فرمایا۔
آپ انگریزی قانون کے پابند ہیں ، میں محمدی قانون کا پابند اس حق آزادی کے پیش نظر میں ایسی ضمانت پر جو تحریر و تقریر پر پابندی عائد کرے جیل کو ترجیح دیتا ہوں۔ مولانا ظفر علی خان نے 27 نومبر 1956ءکو اپنے آبائی گاو¿ں کرم آباد میں وفات پائی اور کرم آباد میں دفن ہوئے۔