نسل نو-- سبز پرچم

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

جو میرے نانا بہت بڑے تھے
تو باپ دادا بھی سر پھرے تھے
جو نانا انگریز کے تھے مِٹھو
تو دادا تھے کانگرس کے پِٹھو
رہے فریقین یوں جھگڑتے
مرے وہ آپس میں لڑتے لڑتے
مرے نظریات مختلف تھے
کہ میرے جذبات مختلف تھے
نہ جنگ ان سے تھی میرے بس کی
کہ عمر تھی ساڑھے چھ برس کی
میں سبز پرچم اٹھائے پھرتا
گلی میں نعرے لگائے پھرتا
مِرا وطن پاک سرزمیں ہے
جناح سا قائد کوئی نہیں ہے
نیا جو قائد نے ملک پایا
تو میرے والد نے سر کٹایا
میں اب اکہتر برس کا ہو کر
سویرے اُٹھتا ہوں جب بھی سو کر
تو سوچتا ہوں کہ کیا کمایا
کہ ملک آدھا تو ہے گنوایا
یہ رہنما جو جھگڑ رہے ہیں
جو صرف آپس لڑ رہے ہیں
تو دس برس کا مرا نواسہ
وہ سبز پرچم اٹھائے گا کیا
کہ جس کے سائے میں ہم چلے تھے
تو دن غلامی کے وہ ڈھلے تھے
جوان مل کر اٹھائیں پرچم
تو مطمئن ہو کے مر سکیں ہم