فریال تالپور کو پروٹوکول کیخلاف ممتاز بھٹو نے الیکشن کمشنر کو دوسرا خط لکھ دیا

لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعلیٰ سندھ ممتاز علی بھٹو نے فریال تالپور کو سندھ میں سرکاری پروٹوکول دئیے جانے پر چیف الیکشن کمشنر کو دوسرا خط لکھ دیا ہے جس میں انہوں نے پہلے خط 30اگست 2012ءکا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے فریال تالپور اور اُن کے ہمسفر وزرائ، مشیروں، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے لشکر کو سرکاری پروٹوکول دیئے جانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔ ممتاز بھٹو نے اپنے دوسرے خط میں لکھا ہے کہ فریال تالپور ایم این اے کو سرکاری سکیورٹی اور پروٹوکول آنے والے الیکشن سے پہلے عوام پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا اس ڈرامے کا مقصد عوام کو ڈرا دھمکا کر ووٹ دینے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انگریزوں کے زمانے میں بھی پولیس اہلکاروں کو اسی طرح گزرگاہوں پر کھڑا کیا جاتا تھا تاہم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے برسراقتدار آکر اس طریقے کو دفن کر دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہائیکورٹ نے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کے مخالف امیدوار کی استدعا پر فریال تالپور کے پی پی 21نوشہرو فیروز میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے مگر اس کے باوجود فریال تالپور کا وہاں اثرورسوخ استعمال کرنا میرے دوسرے خط کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے دوبارہ خط لکھ کر یہ واضح کرنا پڑا ہے کہ فریال تالپور عوام کو مفتوح سمجھ کر فاتحین والا رویہ اختیار کر رہی ہیں جو غیرجمہوری اور الیکشن میں دھاندلی کے مترادف ہے۔