بیرون ممالک سے ٹیلی فون کالز، انٹرنیٹ سروسز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا عندیہ

لاہور (کامرس رپورٹر) پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے بیرون ممالک سے پاکستان کی جانے والی ٹیلی فون کالز، انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز کو بھی سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خدمات پر سیلز ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے پی آر اے نے پنجاب سیلز ٹیکس ایکٹ 2012ءکے تحت مختلف شعبوں کو دی جانے والی چھوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے نفاذ کے بعد پنجاب میں ڈائل اپ اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ، ای میل سروسز، ڈیٹا کمیونیکیشن نیٹ ورک سروسز اور دیگر ویلیو ایڈڈ ڈیٹا سروسز پر صارفین کو 16 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی ٹیکس اتھارٹی نے سافٹ ویئر کمپنیوں اور انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز کی انٹرنیشنل لیزڈ لائنز، بینڈ وڈتھ سروسز، بیرون ممالک سے پاکستان لائی جانے والی ٹیلی کام ٹریفک اور کمیونیکیشن سے متعلق خدمات کے دیگر شعبوں کو بھی صوبائی سیلز ٹیکس نیٹ شامل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ وفاقی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے انٹرنیٹ خدمات کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے رکھا تھا اور اسی نمونے کی پیروی کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی اس شعبے کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا تھا تاہم اب یہ چھوٹ مرحلہ وار واپس لی جائے گی۔