ایک جراتمند قلمکار۔۔۔۔مولانا ظفرعلی خان

جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ......
میرا تعلق اسی سرزمین سے ہے جہاں بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاں نے آنکھ کھولی، اپنا بچپن گزارا اور نصف صدی سے زائد عرصہ تک عظیم قومی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے بعد اسی سرزمین میں آسودہ خاک ہوئے۔ آج مولانا کو ہم سب سے جدا ہوئے 56 سال ہوچکے ہیں۔ مولانا کی قومی و ملی خدمات سے ایک زمانہ واقف ہے مگر افسوس نئی نسل کو ہم نے حضرت مولانا اور دوسرے قومی محسنوں سے روشناس کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نئی نسل کو بتایا جائے کہ مولانا ظفر علی خاں نے اس وقت کی سپر پاور کو للکارا جس کا قتدار نصف النہار پر تھا اور دنیا کی کسی مملکت اس کے مدمقابل آنے کا حوصلہ نہ تھا۔ مولانا نے اپنے باطل شکن قلم، حق گو زبان اور بے باک روزنامہ زمیندار کے ذریعے مسلسل نصف صدی سے زائد عرصہ تک فرنگی سامراج کے خلاف کامیاب جدوجہد کی اور اسے اپنی آنکھوں سے برصغیر سے رخصت ہوتے دیکھ لیا۔ مولانا کی للکار سے برطانوی حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوجایا کرتا تھا۔
ایک موقع پر مولانا نے فرمایا۔
قسم ہے جذبہ¿ حبِ وطن کی بے پناہی کی
ہمارا دیس غیروں کا غلام اب رہ نہیں سکتا
جب مولانا اپنے افکار اور کردار کے حوالے سے قیدوبند کی آزمائشوں سے گزرے تو انہوں نے فرنگی کی قائم کردہ عدالتوں کے طرز انصاف کا مشاہدہ کیا اور علی الاعلان اس کی مذمت کی۔
فرنگی سامراج اور اس کے گماشتے جن میں قادیاتی ٹوڈی جاگیر دار اور جعلی پیر شامل تھے۔ مولانا نے اپنی بے مثال شاعری کے ذریعے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ انگریزوں نے ہندوستان کی حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی، اس لئے اسے ہمیشہ ان سے اپنی حکومت کے عدم استحکام کا خطرہ رہا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ایک مرزا غلام احمد قادیانی سے نبوت کا دعویٰ کروا کر یہ فتویٰ حاصل کیا کہ نعوذ باللہ جہاد حرام ہوگیا ہے۔ مولانا نے اپنے شعری مجموعہ ارمغانِ قادیان کے ذریعہ اس نبوت کے داعی اور اس کے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا۔
مولانا ہندو، انگریز، مرزائی اور ٹوڈی جاگیرداروں سے بیک وقت چومکھی لڑتے اور سب کو چاروں شانے چت گراتے۔ ہندو اخبار اکٹھے مل کر زمیندار پر حملہ آور ہوتے مگر مولانا اپنے قلم کی طاقت سے انہیں ذلیل و رسوا کرکے پسپا کردیتے۔ ایک دفعہ کرشن چند ناز نے اپنے اخبار میں ایک نظم شائع کی جس کا عنوان تھا ”بھتنے“۔ اگلے دن مولانا نے زمیندار میں اسی ردیف قافئے میں ایک زوردار نظم شائع کردی۔
مولانا کے قلم کی جولانیوں نے زمیندار کا پلڑا ہمیشہ ہندو اخباروں پر بھاری رکھا۔
اللہ کا سایہ ہے زمیندار کے سر پر
پنجاب کے سر پر ہے زمیندار کا سایہ
مولانا دینی معاملات میں کبھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کرتے۔ ایک مسلمان نوجوان عبدالرشید نے شاتم رسول شردھانند کو قتل کردیا۔ مولانا نے علی الاعلان غازی عبدالرشید کا بھرپور ساتھ دیا۔ پنڈت مدن موہن مالویہ نے اپنے اخبار میں لکھا کہ سوامی شردھانند مرا نہیں بلکہ آسمان پر مسلمانوں کی شدھ کرنے (ہندو بنانے) کے لئے چلا گیا ہے۔ مولانا نے اس کا سخت نوٹس لیا اور زمیندار میں ایک تہلکہ خیز نظم شائع کردی۔ مولانا ردیف قافئے اور بدیہہ گوی کے شہنشاہ تھے اور اس میدان میں کوئی ان کا مدمقابل نہیں تھا۔ مجلس احرار اسلام کے اخبار ”آزاد“ کے اجرا پر نوابزادہ نصراللہ خاں اور آغا شورش کاشمیری پہلے پرچے کے لئے نظم حاصل کرنے کے لئے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا نے طبیعت کے ناموزوں ہونے کا عذر کیا مگر اصرار کرنے پر مولانا نے دو اشعار عطا کردئیے کیونکہ دونوں عقیدت مندوں کا یہ کہنا تھا کہ باقی نظم ہم مکمل کرلیں گے مولانا نے جو دو شعر عنایت کئے ملاحظہ فرمائیے۔
یہ کہہ دو کشور ہندوستاں کے بت پرستوں سے
کہ نقش دین قسیم تا قیامت مٹ نہیں سکتا
مسلماں طبل آزادی کے بجتے ہی بتا دے گا
کہ اسلامی سیاست کا یہ مہرہ پٹ نہیں سکتا
مولانا انگریزوں کے خلاف طویل جدوجہد کرتے رہے اور مختلف اوقات میں اپنی عمر عزیز کے 12 سال نذر زنداں کر دیے۔ انگریز کی جیل کا تصور ہی انسان پر کپکپی طاری کر دیتا ہے
محمد کی شفاعت پر میری اس عرض کا حق ہے
کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی
ہم نے انگریز کے خلاف جہاد کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ میں مجلس احرار اسلام اور خدائی خدمت گار تحریک کے جانباز اور جاں نثار رہنما¶ں کی بات نہیں کر رہا جنہوں نے اپنی زندگیوں کے بہترین حصے حصول آزادی کی خاطر حوالہ زنداں کر دیے۔ آپ انہیں کوئی کریڈٹ نہ دیں کہ وہ تحریک پاکستان سے لاتعلق رہے مگر جن صاحب عزیمت حضرات نے انگریز کے خلاف جہاد کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہم نے انہیں کیا دیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد انصاری اور جناب حمید نظامی کی کیا خدمت کی۔ کیا ہم نے ان کے ملی خدمات کے شایان شان کوئی ادارہ ان میں سے کسی کے نام پر قائم کیا۔ ہرگز نہیں۔ البتہ مملکت خداداد کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے ایک بدکلام آمر غلام محمد کے نام پر دریائے سندھ پر غلام محمد بیراج بنایا اور میاں نوازشریف کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو سبوتاژ کرنے والے غلام اساق کے نام پر کروڑوں کے صرفہ سے جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ بنایا۔ غلام اسحاق کے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کے اقدام کے نتیجہ میں تمام ملکی ادارے تباہ ہوئے۔ صنعتیں برباد ہوئیں ملکی ترقی مکمل طور پر رک گئی اور نشیمنوں پر بجلیوں کا کارواں گزر گیا۔