گرمی سے3 افراد جاں بحق: لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے، مینگورہ میں لاٹھی چارج، کئی زخمی

لاہور+ اسلام آباد+ سوات (نیوز رپورٹر+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) بجلی کا شارٹ فال 5500 میگا واٹ سے تجاوز کرگیا اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا جس کیخلاف شاہدرہ ، فیروزوالا سمیت کئی شہروں میں احتجاج کیا گیا مینگورہ میں طویل لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے اور ناظمین اور کونسلروں سمیت17افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ شدید گرمی کے باعث نارنگ منڈی ، سادھو کے اور موچھ میں3 افراد دم توڑ گئے۔ تفصیلات کے مطابق چھٹی والے روز لاہور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ شدید گرمی کی وجہ سے لیسکو کا سسٹم اوورلوڈ ہونا شروع ہوگیا جس کے بعد مختلف علاقوں میں بجلی کی ٹرپنگ بڑھ گئی بجلی کی مسلسل بندش کی وجہ سے پریشان رہے ۔ لیسکو آپریشن ڈائریکٹر اسد اللہ کا کہنا ہے کہ رمضان میں سحری و افطاری اور تراویح کے دوران بجلی کی فراہمی کیلئے تمام تر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ادھر مینگورہ شہر میں 24 گھنٹے سے زیادہ بجلی بند رہی جس کے خلاف رنگ محلہ، ملوک آباد، بارامہ، شبیر آباداور دیگر علاقوں میں مساجد میں اعلانات ہوئے جس پر ہزاروں کی تعداد میں عوام نشاط چوک جمع ہوگئے اور شدید احتجاج کیا جس پر اے ڈی سی غلام سعید، ایڈیشنل اے سی جان محمد اور ایس ڈی اوو واپڈا جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے مظاہرین سے مذاکرات کئے، مظاہرین کے نہ ماننے پر اے ڈی سی کے حکم پر پولیس نے مظاہرین پر شدید لاٹھی چارج کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔علاوہ ازیں سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں، تاجر برادری اور وکلاء برادری نے مظاہرین پر ظالمانہ لاٹھی چارج اور مقدمات کے اندراج کی شدید مذمت کی ہے اور احتجاجی تحریک کی دھمکی دی ہے۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق قیامت خیز گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے گائوں کوٹ بھیلاں کا ایک شخص افتخار احمد ہنجرا دم توڑ گیا۔ سادھو کے سے نامہ نگار کے مطابق شدید گرمی کے باعث نواحی گائوں منہیس کا 40 سالہ ماکھا ڈوگر دم توڑ گیا۔ افطاری کے فوری بعد خون آلودہ قے آنے پر اسکی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی اور وہ طبی امداد سے قبل ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ موچھ سے نامہ نگار کے مطاقب گرمی کا ستایا ہوا ایک شخص ٹرین کے ٹریک پر سو رہا تھا کہ اچانک ٹرین آنے کے باعث اس کی زد میں آ کر دم توڑ گیا۔فیروز والہ سے نامہ نگار کے مطابق شاہدرہ اور فیروز والہ میں لوڈ شیڈنگ اور ٹرانسفارمروں کی خرابی کے باعث بجلی کی بندش کیخلاف شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکوں کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا ، پولیس افسران نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے ٹریفک بحال کرائی۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق سحری، افطاری اور نماز تراویح کے وقت بھی بجلی بند رہنے لگی۔ شہری طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف بلبلا اٹھے جبکہ پاور لومز انڈسٹری پر تالے لگنا شروع ہوگئے۔ شہری تنظیموں نے بجلی کی طویل بندش پر شدید احتجاج کیا ہے۔ آن لائن کے مطابق ملک بھر کا شارٹ فال 5500 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا جس کی وجہ سے شہری علاقوں میں 10 سے 14 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے کی طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔آئی این پی کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ جون 2017ء تک 5 ہزار 304 میگا واٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ سٹیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایل این جی سے 2263 میگا واٹ بجلی بنائی جائیگی، وفاقی حکومت نے 18 ہزار 875 میگاواٹ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی پری اور فزیبلیٹی سٹڈی مکمل کر لی۔ منصوبہ بندی کمشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک سال میں انسٹال صلاحیت میں 5176 میگا واٹ اضافہ اور جون2017ء تک 7 ہزار 92 دیہاتوں کو بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اسی عرصہ کے دوران ایل این جی منصوبوں سے 2263 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی جائیگی۔نوائے وقت رپورٹ کے مطابق قصور میں کچا پکا کے قریب لوگوں نے بجلی کی طویل بندش کیخلاف احتجاج کیا اور دیپالپور روڈ بلاک کردی۔ مظاہرین نے بتایا کہ 9 گھنٹے سے بجلی بند ہے، بحالی تک سڑک بلاک رکھیں گے۔