شفاف اور غیر جانبدار انتخابات پیپلزپارٹی کے دور میں ممکن نہیں

لاہور+اوکاڑہ (خصوصی نامہ نگار+ثنا نیوز) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں سرعام دھاندلی اور حکومتی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان شرمناک حرکتوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام اور عالمی برادری کو منفی پیغام دیا ہے اور اس سے جدوجہد آزادی¿ کشمیر کو شدید نقصان پہنچے گا۔ منصورہ سے جاری بیان میں سید منور حسن نے کہاکہ پیپلز پارٹی کا اسلام آباد اور مظفر آباد سیکرٹریٹ عملاً الیکشن کمیشن بنا رہا جہاں سے اپنے من پسند پولنگ آفیسروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں ، آخری وقت میںانتخابی حلقوں اور پولنگ سٹیشنوں میں تبدیلی کی گئی اور مخالف امیدواروں کو انتخابی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے ہراساں کر کے ریاستی دہشت گردی کامظاہرہ کیا گیا۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی کے قافلے پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے میں بدترین دھاندلی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ انتخابی حلقوں میں فساد اور کئی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد پیپلز پارٹی کی حکومت میں ممکن نہیں ۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غیر آئینی ہتھکنڈوں اور دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ دریں اثناءاوکاڑہ پریس کلب میں ٹیلی فونک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی سیاست ملکی مسائل کا حل نہیں۔ مضبوط اپوزیشن ہی پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ میاں نوازشریف حکومتی کمزوریوں اور غلط پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں اگر وہ یہ کمپین جاری رکھیں تو تین سالہ فرینڈلی اپوزیشن کی تلافی ہوسکتی ہے۔ ایم ایم اے سے زیادہ ایک ایسے اتحاد کی ضرورت ہے جس میں تمام حکومت مخالف جماعتیں شامل ہوں۔ سید منور حسن نے کہا کہ اگرچہ صدر آصف زرداری کی نو ڈیرو والی تقریر آئینی قانونی اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی قابل اعتراض تھی تاہم میں اس بات کا حامی نہیں ہوں کہ سپریم کورٹ اس تقریر پر سوموٹو ایکشن لے۔ مفاہم کا نتیجہ باہمی لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
منور حسن