افغانستان سے انخلا کا اعلان کرتے ہی امریکہ نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی‘ حکمرانوں کی خاموشی

لاہور( احمد جمال نظامی/سپیشل کارسپانڈنٹ) امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کا سلسلہ شروع کردیا ہے مگر حکومتی قیادت اور عسکری حکام ان تابڑ توڑ حملوں کا قطعی طورپر کوئی جواب نہیں دے رہے جس سے وطن عزیز میں عوامی سطح پر ہمارے حکمرانوں کے امریکی تسلط میں ہونے کے وطیرہ کے باعث بے چینی میں اضافہ جاری ہے۔انٹر نیشنل میڈیا نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے آئی ایس آئی پر ایک مرتبہ پھر تنقید کے تندوتیز تیر چلانا شروع کردئیے ہیں۔ امریکہ میڈیا بغیر کسی ٹھوس شواہد کے الزام تراشیوںمیں مگن ہے کہ اسامہ کو آئی ایس آئی سے رابطہ رکھنے والے شدت پسندوں کا تعاون حاصل تھا۔ عوامی، سیاسی حلقے اس سوال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ آخر اب جبکہ ہماری فوجی امداد میں کٹوتی اور ہمارے وجود کے بغیر افغانستان میں کامیابی کی بڑھک لگائی گئی ہے تو پھر صدر آصف علی زرداری کس عجلت پسندی کا شکار ہیں کہ وہ بدستور اس گھسے پٹے جملے کو دہرا رہے ہیں کہ انتہا پسندوں کو رعایت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، امریکہ سے ہمارے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ اسی طرح امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی جو ہمارے کم اور امریکہ کے ترجمان زیادہ محسوس ہوتے ہیں انہوں نے کیسے کہہ دیا کہ امریکہ پاکستان کو چھوڑ کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ امداد میں کٹوتی کا معاملہ صرف باتوں تک ہے، پاکستان امریکہ تعلقات کو کوئی خطرہ نہیں ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ نہ جانے ہمارے حکمران کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں انہیں ملی و قومی غیرت و حمیت کا ادراک تک نہیں ہو پا رہا اور امریکہ نوازی میں اصل حقائق کو مسخ کرکے میراثیوں کا سا طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے صرف امداد کی کٹوتی کی باتیں زبانی جمع خرچ کے طورپر نہیں کیں بلکہ اسے قرارداد کی صورت میں اپنی سینٹ میں بھی پیش کیا ہے۔جبکہ کون احمق تصور کرتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، پاکستان کو امریکہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ امریکہ کو اپنی اسلام دشمن جنگ کیلئے پاکستان کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کو اپنی ضرورت کے طورپر پیش کر رکھا ہے۔دراصل اس وقت امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کا وقت آگیا ہے۔امریکہ کی ڈو مور کی دھمکیوں میں ڈوبے ہوئے تقاضوں کو اب لات مار دینی چاہئے اور جس طرح عسکری اداروں پر بھی تنقید کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ہمارے ان اداروں کی قیادت کو امریکہ کے آگے سینہ سپر بننا ہوگا۔ وہ اگر ایسا کرتے ہیں تو پوری قوم ان کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہوگی۔ امریکہ جس نے 10سال سے زائد عرصہ سے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں لام لنڈوری بنا رکھا ہے اور اپنے ڈومور کے تمام تقاضے پورے کروانے کے بعد بھی کسی کھاتے میں شمار نہیں کرتا۔اس امریکہ کو جوتے کی نوک پر رکھنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ وہ حلقے جو اس معاملے کو اپنی شعور سے عاری سوچ میں اُلجھا دیتے ہیں کہ پاکستان امریکہ سے جنگ نہیں لڑ سکتا وہ ذرا اپنی دقیانوسی خام خیالی نظریات سے باہر نکلیں اور بتائیں کہ امریکہ کس طرح ہم سے جنگ لڑ سکتا ہے۔امریکہ اگر ہم سے براہ راست جنگ لڑ سکتا تو کبھی گیدڑ کی طرح پیٹھ پر وار نہ کرتا اور کبھی سی آئی اے کے اپنے ایجنٹوں اور بدنام زمانہ بلیک واٹر کے ذریعے ہمارے پیارے ملک میں تخریب کاری اور جاسوسی کے عمل کو مضبوط نہ کرتا، سانحہ ایبٹ آباد ہماری سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کے آگے ایک ایسا سوال ہے جس کی کاری ضرب مٹائے نہیں مٹ سکی۔ اس سانحہ کے بعد ہی آئی ایس آئی کے ڈی جی احمد شجاع پاشا نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنی غلطی تسلیم کی تھی۔ جس کے بعد وطن عزیز سے امریکی فوج اور سی آئی اے کے اہلکاروں کی تعداد کم سے کم کرنے کیلئے امریکہ سے کہا گیا تھا لیکن گزشتہ روز 67 سی آئی اے اہلکاروں کو احمد شجاع پاشا اور پیٹر یاس کے درمیان ہونے والے فیصلے کے نتیجے میں ویزے جاری کرنا انتہائی شرمناک فعل ہے۔ سی آئی اے کے اہلکار ہمارے ملک میں کیا لینے آتے ہیں۔ ان کو یہاں آنے کا کیا جوازمیسر ہے۔ سب سے زیادہ حیرانگی اس امر پر ہے کہ ہمارے حکمران یہ سب کیسے برداشت کررہے ہیں۔ اس پروزیر داخلہ رحمان ملک کیا منطق پیش کریں گے جب پوری قوم اپنے حکمرانوں کے ایسے اقدامات پر اپنے سر شرم سے جھکا دیتی ہے۔ کیا امریکہ میں سی آئی اے چیف جنرل ڈیوڈ پیٹر یاس کے اس انکشاف کہ سی آئی اے پاکستان سمیت کئی ممالک میں آپریشن کر رہی ہے ہمارے اعلیٰ حکام اور حکمرانوں کو شرم محسوس نہیں ہوتی یا پھر وہ امریکی امداد میں اس قدر ہوس کا شکار ہوچکے ہیں کہ انہیں اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔اس وقت ہمارا ملک اغیار اور امریکہ سے کہیں زیادہ اپنوں کی حماقتوں اور مخصوص مفادات کی غرض سے سازشوں کا شکار ہے۔ لہٰذا ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی منقطع کرنے کے حوالہ سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث لاہور ہائیکورٹ نے جو دائر آئینی رٹ باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلی ہے۔اس پر اب عوام کیلئے امید کی آخری کرن آزاد عدلیہ ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ماتحت عدالتوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، انصاف ہوتا نظر آناچاہیے۔ عوام کا پر زور مطالبہ ہے کہ ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی منقطع کرنے کے بارے میں دائر آئینی رٹ پٹیشن پر عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کرے گی کیونکہ عوام کے پاس امید کی آخری کرن آزاد عدلیہ ہے۔ وہ عدلیہ جس کی موجودگی میں اقتدار کے ایوانوں میں بوٹوں کی چاپ سنائی نہیں دے سکتی۔ایسے میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا آزاد شیر کی طرح چنگھاڑنا اور کسی کو مقدس گائے نہ بننے دینے کا اعلان اہم ہے پر انہیں فوج کے دفاعی اخراجات اور اس سے متعلقہ رازوں سے آگاہی کا مطالبہ بھی نہیں کرناچاہیے۔
امریکہ/ الزامات