فروری تک بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی‘ خواجہ آصف‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتیں گے : حمزہ شہباز

فروری تک بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی‘ خواجہ آصف‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتیں گے : حمزہ شہباز

لاہور (خصوصی رپورٹر) پاکستان بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ سیاسی رہنماﺅں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ اپنی آزادی و خودمختاری کیلئے اختلافات چھوڑ کر اخوت اور بھائی چارے سے رہےں۔ آپس کے اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے۔ خواجہ رفیق شہید نے جمہوریت کیلئے اپنی جان دیدی۔ ان کے صاحبزادوں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے اپنے والد کے مشن پر چل کر ان کی قربانی کو نئی نسل کیلئے مشعل راہ بنا دیا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے گزشتہ روز خواجہ محمد رفیق شہید فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام وفاقی وزیر سعد رفیق اور صوبائی مشیر سلمان رفیق کے والد کی برسی پر منعقدہ سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع تھا ”بحرانوں میں گھرا پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں“۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دو مہینے کیلئے نہریں بند ہو گئی ہیں جبکہ گیس کی بھی قلت ہے اس لئے عوام کو فروری کے اوائل تک بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑے گی‘ تاہم یہ اتنی نہیں ہوگی جتنی ماضی میں ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءکے بعد پاکستان کی سیاست بلوغت کی منزل پر آپہنچی ہے۔ ایک منتخب حکومت نے اقتدار 2013ءمیں دوسری حکومت کو منتقل کیا ہے۔ اس میں نوازشریف کا کردار قابل تعریف ہے جنہوں نے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ سنا مگر جمہوریت کے استحکام کی منزل کو مزید قریب کیا۔ انہوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ سیاست‘ مذہبی عقائد‘ میڈیا‘ معاشی‘ کاروباری اور ذاتی تعلقات میں برداشت کا عنصر ختم ہو چکا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنا آج اور آنے والی نسل کیلئے چیلنج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور دفاع مضبوط بنانے چاہئیں لیکن جب تک معاشی مضبوطی نہیں ہوگی‘ سکیورٹی اور دفاع کو مضبوط نہیں بنایا جا سکے گا۔ وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ خواجہ محمد رفیق کی برسی بدلے ہوئے حالات میں ہو رہی ہے۔ خواجہ رفیق نے جن اصولوںکیلئے قربانی دی‘ ان میں سے کچھ حاصل ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان آئین اور قانون کی حکمرانی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہ نوازشریف برداشت کی سیاست سے آج وزیراعظم بنے۔ عمران مہنگائی کے خلاف ریلی ضرور نکالیں مگر نظام کو ڈی ریل کرنے کا نہ سوچیں۔ مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز نے کہا کہ جمہوریت کا تسلسل جاری رہنا چاہئے۔ جمہوریت ہی میں پاکستان کی بقاءہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی روگ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے لیکن یہ جنگ اکیلے مسلم لیگ (ن) نہیں لڑ سکتی‘ ساری قوم کو ایک ہوکر اس روگ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی تعداد چند ہزار ہے۔ ان کے مقابلے پر 19 کروڑ عوام آجائیں تو جیت پاکستان کی ہوگی۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ بحرانوں میں گھرے پاکستان کو اس صورتحال سے نکالنے کیلئے دوٹوک اور واضح قومی پالیسی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور قرضوں کی لعنت کی وجہ سے ملک مسائل کا شکار ہے۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ پانچ سال حکومت کرنا مسلم لیگ (ن) کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان قوتوں کا راستہ روک دیا ہے جو مداخلت کرتی ہےں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما سید حیدر عباس رضوی نے کہا کہ قرارداد پاکستان میں جو ڈھانچہ دیا گیا تھا‘ اسے چھوڑ کر پاکستان کی بنیاد انتہائی مرکزیت پر رکھ دی گئی۔ کہا کہ ملک مضبوط نہیں ہوگا تو پاکستان کی سالمیت کو نقصان ہوگا۔ خواجہ محمد رفیق شہید کی برسی کے موقع پر سیمینار میں متفقہ قرارداد میں کہا گیا کہ تمام سیاسی پارٹیاں پاکستان کے استحکام کیلئے ایک نکاتی ایجنڈا پر اکٹھی ہوکر آئین پاکستان کے تحفظ کی بات کریں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ آئین توڑنے والے طالع آزما جنرل (ر) پرویز مشرف اور اس کے حواریوں کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت قرارواقعی سزا ملنی چاہئے تاکہ مستقبل میں کسی کو آئین توڑنے کی جرا¿ت نہ ہو۔ ایک قرارداد میں وزیراعظم نوازشریف کو مبارکباد پیش کی گئی کہ دورہ¿ امریکہ میں امریکی صدر اوباما کے ساتھ مذاکرات میں ڈرون حملوں کے خلاف قومی جذبات کی ترجمانی کی اور اس وجہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ڈرون حملوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کسی بھی ملک کی آزادی و خودمختاری کے خلاف قرار دیا گیا۔ ایک اور قرارداد میں نیب اور احتساب کے اداروں کو مزید مضبوط بنانے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ بیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع کالا دھن واپس لایا جا سکے۔ ایک قرارداد میں جمہوریت‘ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے جان نچھاور کرنے والے شاہدین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
برسی تعزیت / خواجہ آصف/کائرہ