بےنظیر کا قتل، حکمرانوں نے خاموشی اختیار کر لی، تحقیقاتی کمشن بنایا جائے: ناہید خان

بےنظیر کا قتل، حکمرانوں نے خاموشی اختیار کر لی، تحقیقاتی کمشن بنایا جائے: ناہید خان

لاہور (سید شعیب الدین سے) سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان نے مطالبہ کیا ہے حکومت بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لئے کمشن بنائے جس میں تحقیقاتی اداروں کے اچھی ساکھ رکھنے والے لوگ شامل ہوں۔ بےنظیر بھٹو کے 27 دسمبر 2007ءکو راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں شہادت کے 6 سال مکمل ہونے پر نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ناہید خان نے کہا پیپلز پارٹی کی حکومت کا اخلاقی فرض تھا اپنی پارٹی کی چیئرپرسن اور پاکستان میں جمہوریت کی دو مرتبہ بحالی میں اہم ترین کردار ادا کرنے والی بین الاقوامی لیڈر کے قتل کی تحقیقات کراتی مگر شاید یہ کام ان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا یا پھر وہ کسی ایسے معاملے میں الجھے رہے کہ جو کام کرنا چاہئے تھا نہیں کر سکے۔ موجودہ حکمرانوں نے بھی بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرانے کا کہا تھا مگر اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی ہے۔ بدقسمتی سے بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرانے کے معاملے پر کسی نے گذشتہ 5 سال میں آواز نہیں اٹھائی۔ اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی گئیں مگر ان میں سے (CRIMINAL ASPECT) نکال دیا گیا۔ تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے خود لکھا انہیں یہ مینڈیٹ نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا بےنظیر بھٹو عالمی لیڈر تھیں ان کے قتل کی تحقیقات حکومت کا فرض ہے۔ بےنظیر بھٹو کو کس نے قتل کیا اور ان قاتلوں کی پشت پناہی کس نے کی، اس کو سامنے لانا ہر حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت کا فرض ہے تحقیقات کرا کے حقائق عوام کے سامنے لائے۔ مزید برآں این این آئی کے مطابق ایک بیان میں ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا ہے شہید بےنظیر بھٹو کی سوچ اور فلسفے پر سیاست کرنا موجودہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے بس کی بات نہیں، بےنظیر بھٹو شہید کے پائے کا پوری دنیا میں کوئی سیاستدان پیدا نہیں ہوا اب بھی جیالے اور پرانے ورکرز بھٹو خاندان سے محبت کرتے ہیں۔ بلدیاتی الیکشن ہوئے تو اس کے نتائج پیپلز پارٹی کے لئے حوصلہ افزا ثابت نہیں ہوں گے کیونکہ عوام نے حکمرانوں کو اچھی طرح آزما لیا ہے۔
ناہید خان